’بتیاں بجھائی رکھ دی‘، دلجیت نے مداحوں ہی نہیں شازیہ منظور کا دل بھی جیت لیا

بدھ 15 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی اور ہندوستانی پنجابی گلوکار ایک ہی ثقافت کی وجہ سے پاکستان اور بھارت دونوں میں مقبول ہیں، ایک وقت تھا کہ پاکستانی گلوکار میڈم نورجہاں، شازیہ منظور، ابرار الحق وغیرہ جیسے پاکستانی گلوکار بھارت میں بے حد مقبول تھے، آج بھی دونوں طرف کے گلوکار ایک دوسروں کے گیت گا کر باہمی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔

حال ہی میں ہندوستانی پنجابی گلوکار دلجیت دوسانجھ نے اپنے لائیو کنسرٹ میں پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور کا مشہور پنجابی گانا ’بتیاں بجھائی رکھدی وے دیوا بلے ساری رات‘ گایا ہے۔

دلجیت دوسانجھ کی پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور کا گانا گاتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس کا شازیہ منظور نے بھی مثبت انداز میں جواب دیا ہے، دونوں نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کے لیے پنجابی میں تعریفانہ تبادلہ خیال کیا۔

دلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام پر لکھا شازیہ منظور کے لیے’عزت عزت اے بہت پیار‘، جس پر شازیہ منظور نے ان کو جواب دیا کہ ‘پتر آپ کے لیے بہت بڑا احترام، آپ ہمارے سب سے بڑے مداح کی طرف سے ہماری فخر چاردی کلا چھ راوو تے ماں بولدی، انج ای سیوا کرو۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایوان صدر میں قومی اعزازات کی تقریب 28 اپریل کو منعقد ہوگی، نوٹیفکیشن جاری

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

وی ایکسکلوسیو: عالمی بحران میں پاکستان بڑی مسلم طاقت کے طور پر ابھرا ہے، مشاہد حسین

ویڈیو

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

کالم / تجزیہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ