پشاور کا مشہور قصہ خوانی بازار اب کس حالت میں ہے؟

جمعرات 16 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

زمانہ قدیم میں افغانستان، ایران اور دیگر ممالک کے تاجروں کا اہم پڑاؤ پشاور شہر ہوتا تھا۔ مختلف ممالک کے تاجر جب گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں پر سامان تجارت کے لیے نکلتے تو پشاور ضرور آتے تھے۔ اور پشاور کے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر قصے کہانیاں ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے۔ تاریخ دانوں کے مطابق پشاور کے اس علاقے جہاں یہ قہوے خانے ہوتے تھے اس کا نام قصہ خوانی پڑگیا۔

تاریخی قصہ خوانی بازار اب بھی قدیم مغلیہ دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ اور اسی تاریخی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے تاریخی قصہ خوانی بازار کی تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا ہے۔ تاریخی عمارتوں کو ایک طرز پر رنگ و روغن کیا گیا ہے۔ جبکہ عمارتوں پر قدیم دور کے نام بھی نمایاں کرکے لگا دیے ہیں تاکہ سیاحوں کو آگاہی ہو۔

وقت کے ساتھ ساتھ قصہ خوانی کے قہوہ خانے بھی جوتوں، ملبوسات اور دیگر اشیا کی دکانوں میں بدل گئے ہیں لیکن ایک دو قدیمی قہوہ خانے اب بھی موجود ہیں۔ جنہیں تزئین و آرائش کے بعد اصلی حالت میں ہی بحال کیا گیا ہے۔ جبکہ تاریخی بازار میں لکٹتی ہوئی بجلی کی تاروں کو ختم کیا گیا ہے اور بیٹھنے کے لیے بینچ بھی لگائے گئے ہیں۔ سیاح اور مقامی افراد اس بارے میں کیا کہتے ہیں، دیکھیے اس ڈیجیٹل رپورٹ میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن