پشاور کا تاریخی یادگار چوک خستہ حالی کا شکار

پیر 15 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک تاریخی شہر پشاور آج بھی دنیا کی مختلف تاریخی اور قدیمی ثقافتوں کا امین ہے۔ اگر پشاور شہر کی سیر کی جائے تو سینکڑوں سال پرانی ہندو شاہی، غزنوی، غوری، افغان، مغل، درانی، سکھ اور برطانوی دور تک کی طرز زندگی اور فن تعمیرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

صدیوں سے پشاور افغانستان، جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت کا مرکز رہا ہے اور اس پر مختلف اوقات میں مختلف حکمرانوں نے حکومت کی ہے۔

ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری کے تاریخی شہر پشاور پر لکھے گئے کالم کے مطابق 5 سے 6 صدی قبل مسیح پشاور شہر ہخامنشی سلطنت کا صوبہ تھا جس کے بعد یہ علاقہ ہندو شاہی، غزنوی، غوری، افغان، مغل، درانی، سکھ اور تقسیم ہند سے پہلے برطانیہ کے قبضے میں رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پشاور انہی ادوار کے طرز تعمیر اور ثقافت کا بھی امین ہے جبکہ شہر میں مختلف یادگاریں بھی تعمیر کی گئی ہیں جو اس دور کی عکاس بھی ہیں۔

انہی تعمیرات اور یادگاروں میں سے ایک پشاور شہر کے وسط میں واقع ’چوک یادگار‘ بھی ہے۔ ’چوک یادگار‘ تاریخی مسجد مہابت خان اور گھنٹہ گھر کے درمیان قصہ خوانی کے قریب واقع ہے، جو 1892 میں جنرل ہیسٹنگ کی یاد میں یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، جسے ہیسٹنگ میموریل بھی کہا جاتا تھا۔ 1930 میں قصہ خوانی بازار کے خونریز سانحے کے بعد یہ یادگار ان شہدا کے نام کر دی گئی۔

2،3 سال پہلے صوبائی حکومت کی طرف سے پشاور شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے کروڑوں روپے ’چوک یادگار‘ پر لگائے گئے۔

تاریخی یادگار کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے پانی کے فوارے اور بیٹھنے کے لیے بینچز لگائے گئے جو مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہیں۔

یادگار کے گنبد، سیڑھیاں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جبکہ شام ہوتے ہی نشے کے عادی افراد یہاں ڈیرا ڈال دیتے ہیں جبکہ اندرونِ شہر میں عوامی بیت الخلا نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ یہاں اپنی حاجت بھی دور کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں بدبو بھی آتی ہے۔ جبکہ  گندگی اور تعفن کے باعث ’چوک یادگار‘  سے گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

شہر میں پارک نہ ہونے کی وجہ سے شام کے اوقات میں عمر رسیدہ افراد یہاں کا رخ کرتے ہیں اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں جبکہ بچوں کے لیے یہ کسی گراؤنڈ سے کم نہیں۔ اس حوالے سے دیکھے ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، ملزم کی عدم گرفتاری پر سخت ریمارکس

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں