اسکول اوقات میں لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے، سیکریٹری ایجوکیشن کا وزارت توانائی کو خط

جمعرات 23 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تعلیمی اداروں میں تدریسی اوقات کے دوران لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سیکرٹری ایجوکیشن نے سیکرٹری توانائی کو بلا تعطل بجلی فراہمی کے لیے مراسلہ لکھ دیا۔

سیکرٹری ایجوکیشن محی الدین وانی نے خط میں لکھا کہ بجلی لوڈشیڈنگ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں، موسم کی شدت کے باعث تعلیمی اداروں میں بچے لوڈشیڈنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ اسکول اوقات میں گرم موسم اور بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبا کے بے ہوش ہونے اور پانی کی کمی سے متاثر ہونے کے متعدد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

سیکرٹری ایجوکیشن نے لکھا کہ ملک میں اسکولوں کے اوقات میں بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، وفاقی تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے تک بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی جائیں۔

واضح رہے ملک کے کئی شہروں میں اسکولوں کو گرمی کی چھٹیاں دے دی گئی ہیں جبکہ بیشتر علاقوں میں ابھی بھی باقاعدگی سے اسکول کھل رہے ہیں، تاہم جون جولائی کے موسم میں زیادہ تر اسکول گرمی کی چھٹیاں دے دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

اسپیکر ایاز صادق کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ارتھ آور کی تقریب، ایک گھنٹے کے لیے لائٹس بند

اپوزیشن اتحاد کا حکومت کو مذاکرات کا گرین سگنل، قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟