23 مارچ: کومل اور تیور سروں کی تاریخ

جمعرات 23 مارچ 2023
author image

وجاہت مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برادر بزرگ کی تجویز ہے کہ 23 مارچ کی تاریخی اہمیت پر خامہ فرسائی کی جائے۔ بہت بہتر حضور! تعمیل فرمان سے سرتابی کی مجال نہیں لیکن ایک الجھن ہے۔ 23 مارچ تو ہر برس آتا ہے اور اس موسم میں آتا ہے جب دن اور رات قریب قریب برابر ہوتے ہیں۔ ادھر اردو محاورے کے مطابق کبھی کے دن بڑے، کبھی کی راتیں۔ ہماری تاریخ میں بھی 23 مارچ ایک بار نہیں، بار بار گزرا ہے اور ہر بار ایک نئے رنگ سے درشن دیے ہیں۔

23 مارچ نے پہلی بار 1931 کی شام ہمارے دروازے پر دستک دی تھی جب 23 سالہ جوان رعنا بھگت سنگھ کو اپنے انقلابی ساتھیوں راج گورو اور سکھ دیو کے ہمراہ لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ عدالتی حکم کے مطابق 24 مارچ کی صبح پھانسی دی جانا تھی لیکن عوامی اشتعال سے خوفزدہ حکام نے گیارہ گھنٹے قبل ہی شام ساڑھے سات بجے تینوں قیدی تختہ دار پر لٹکا دیے۔ ان شہدائے آزادی کی لاشیں جیل کی عقبی دیوار توڑ کر باہر نکالیں اور فیروز پور کے گاؤں گنڈا سنگھ والا لے جا کر رات کی تاریکی میں نذر آتش کر کے راکھ دریائے ستلج میں پھینک دی۔

یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ لاہور میں کوئی مجسٹریٹ سزائے موت پر عمل درآمد کی نگرانی پر تیار نہیں تھا چنانچہ قصور کے محمد احمد خان نامی ایک اعزازی مجسٹریٹ نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔ یہ وہی محمد احمد خان تھے جو 11 نومبر 1974 کو لاہور کے علاقے شادمان میں عین اس مقام پر نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے جہاں 43 برس قبل بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ محمد احمد خان کے مقدمہ قتل ہی میں ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں پھانسی دی گئی تھی۔

بھگت سنگھ کون تھا؟ پنجاب کے قصبے جڑانوالہ سے مغرب کی جانب کوئی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چک بنگے میں 27 ستمبر 1907 کو پیدا ہونے والا بھگت سنگھ غیرملکی غلامی سے آزادی کے لئے قائم ہونے والی تنظیم نوجوان بھارت سبھا کا رہنما تھا۔ ایک صاحب مطالعہ نوجوان جو صرف تاریخ اور سیاست ہی میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا بلکہ بہت اچھا لکھنے والا اور پراثر مقرر بھی تھا۔

30 اکتوبر 1928 کو سائمن کمیشن کی لاہور آمد کے موقع پر کانگریس کے کارکن سیاہ جھنڈے اٹھائے پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ لاہور پولیس کے سربراہ جیمز سکاٹ نے لاٹھی چارج کا حکم دے دیا۔ اس تشدد میں 68 سالہ قوم پرست رہنما لالہ لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے اور دو ہفتے بعد انتقال کر گئے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے لالہ لاجپت رائے کا انتقام لینے کے لئے جیمز سکاٹ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 17 دسمبر 1928 کو لاہور کی ضلع کچہری کے قریب واقع پولیس دفتر سے ایک جونیئر برطانوی پولیس افسر جان سانڈرس باہر نکلا تو سڑک کی دوسری طرف کھڑے بھگت سنگھ اور راج گورو نے اسے جیمز سکاٹ سمجھ کر فائرنگ کر دی اور دیو سماج روڈ کی طرف بھاگ نکلے۔

ہیڈ کانسٹیبل چنن سنگھ نے قاتلوں کا تعاقب کرنا چاہا تو بھگت سنگھ کے ایک اور ساتھی چندر شیکھر آزاد نے اسے بھی گولی مار دی۔ لاہور کی سخت ناکہ بندی کے باوجود یہ سب افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ چند ماہ تک روپوشی کے بعد بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کے لئے ایک اور منصوبہ بنایا۔ لاہور میں پولیس افسر سانڈرس کے قتل کے الزام میں بھگت سنگھ کو گرفتاری کی صورت میں سزائے موت ملنا یقینی تھا لیکن بھگت سنگھ اپنے ایک ساتھی کیشور دت کے ہمراہ 8 اپریل 1929 کو دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی میں گھس گیا۔ اسمبلی کا اجلاس جاری تھا کہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی نے دیسی ساخت کے دو بم اسمبلی کی خالی عقبی نشستوں کی جانب اچھال دیے۔ بم پھٹنے سے ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ چند ارکان اسمبلی معمولی زخمی ہوئے۔ بھگت سنگھ اور کیشور دت اس افراتفری میں باآسانی فرار ہو سکتے تھے مگر وہ وہاں کھڑے انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے اور اپنے پوسٹر ہوا میں اچھالتے رہے۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ان کا مقصد کسی کو قتل کرنا نہیں تھا بلکہ آزادی کے مطالبے پر توجہ دلانا تھا۔ ہندوستان میں اہم سیاسی جماعتیں دستور پسند سیاست کی قائل تھیں۔ خاص طور پر عدم تشدد تو گاندھی جی کی سیاسی فکر کا بنیادی نکتہ تھا۔ گاندھی جی نے حسب توقع ایسی پرتشدد سرگرمیوں کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم قائد اعظم محمد علی جناح نے بھگت سنگھ کی جیل میں تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر مرکزی اسمبلی میں 12 ستمبر 1929 کو بڑی بے خوفی سے خطاب کرتے ہوئے کہا

”بھوک ہڑتال کرنے والے انسان کا جذبہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ اسی جذبے کی روشنی میں اپنے مقاصد کے مبنی بر انصاف ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ کوئی عام مجرم نہیں جس نے ذاتی غرض سے قتل یا دوسرے بہیمانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔“

قائد اعظم ہی کی طرح پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی لکھا، ”بھگت سنگھ کی مقبولیت کا سبب اس کی دہشت گرد سرگرمیاں نہیں بلکہ یہ احساس تھا کہ اس نے لالہ لاجپت رائے اور قوم کی توہین کا بدلہ لیا ہے۔ وہ ایک علامت بن گیا تھا۔ اس کا اقدام بھلا دیا گیا لیکن علامت زندہ رہی۔ چند ماہ کے اندر پنجاب کے ہر قصبے اور گاؤں میں بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں اس کا نام گونج رہا تھا۔“

مولانا ظفر علی خان نے ان انقلابیوں کی موت پر لکھا تھا:

شہیدان وطن کے خون ناحق کا اگر ست نکلے

تو اس کے ذرے ذرے سے بھگت سنگھ اور دت نکلے

بھگت سنگھ کی شہادت کے 9 برس بعد 23 مارچ نے ایک مرتبہ پھر دستک دی۔ لاہور 19 مارچ 1940 کو انگریز سرکار کے ہاتھوں خاکساروں کے قتل عام پر افسردہ تھا لیکن منٹو پارک میں 23 اور 24 مارچ کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پہلے سے طے تھا۔ تقسیم بنگال کے خرخشے کے بعد سے ہندوستانی مسلمان عددی اعتبار سے اپنے اقلیت میں ہونے سے خائف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جمہوری نظام میں ہندو آبادی کی واضح اکثریت کے باعث ان کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں ہو گا چنانچہ انہیں خصوصی آئینی ضمانتوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ انہی خدشات کی بنیاد پر 1916 کے میثاق لکھنو میں جداگانہ انتخابات کا اصول طے کیا گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کانگرس کی قیادت کے ارادے واضح ہونے لگے۔ 1927 کی نہرو رپورٹ میں مسلم مفادات اور مطالبات کو یکسر نظرانداز کیا گیا تھا جس کے جواب میں جناح صاحب نے اپنے چودہ نکات پیش کیے۔ 1930 سے 1932 تک لندن میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنسوں کی ناکامی کا بنیادی سبب بھی ہندو مسلم مفادات میں اختلاف تھا۔

اس میں کچھ نکات قابل غور ہیں۔ شمال مغربی ہندوستان تاریخی طور پر متحدہ ہندوستان کے دیگر علاقوں سے معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر پسماندہ تھا اور ان علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت آباد تھی۔ ہندوستان کے شمال مشرق میں بنگال مسلم اکثریتی صوبہ تھا لیکن مشرقی اور مغربی بنگال میں زرعی اراضی کی ملکیت کا نمونہ بالکل مختلف تھا۔ معاشی اعتبار سے مغربی بنگال زیادہ ترقی یافتہ تھا اور وہاں ہندو اکثریت آباد تھی۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت 1937 میں پہلے انتخابات منعقد ہوئے تو کانگرس نے گیارہ صوبوں میں سے نو صوبوں میں اپنی حکومت قائم کی۔

کانگرس نے کسی صوبائی حکومت میں مسلمانوں کو قابل ذکر نمائندگی نہیں دی بلکہ متعدد ایسے اقدامات کیے جن میں فرقہ وارانہ مخاصمت جھلکتی تھی۔ پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت کے باوجود بالترتیب یونینسٹ پارٹی اور پرجا کرشک پارٹی کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ گویا مسلم لیگ کسی صوبے میں حکومت نہ بنا سکی۔ 1940 میں دنیا کی کل آبادی 2 ارب تھی جبکہ ہندوستان کی آبادی 40 کروڑ تھی۔ گویا دنیا کا ہر پانچواں شہری ہندوستانی تھا۔ ہندوستان میں مسلمان بھلے اقلیت میں تھے لیکن ان کی تعداد 10 کروڑ تھی۔ کسی ملک میں مذہبی اعتبار سے دو گروہوں کی اتنی بڑی تعداد اور اس میں تناسب کا یہ فرق ناگزیر طور پر نزاعی معاملہ تھا۔

ان حالات میں مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ سالانہ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے ابتدائی طور پر قرارداد لاہور کا عنوان دیا گیا۔ یہ بحث بے کار ہے کہ قرارداد کا مسودہ سر سکندر حیات نے لکھا تھا یا سر ظفراللہ خان نے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ قرارداد بنیادی طور پر ایک دستوری بندوبست کا مطالبہ تھی۔ اس قرارداد کا دوسرا نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ”ایسا کوئی آئینی منصوبہ اس وقت تک قابل عمل ہو گا نہ مسلم آبادی کو قبول ہوگا جب تک باہم متصل جغرافیائی منطقوں کی جداگانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے، جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے متحدہ ہندوستان سے الگ خودمختار مملکتیں قائم کی جائیں جنہیں حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو“ ۔ بعد ازاں 7 اپریل 1946 کو دہلی کے تین روزہ کنونشن میں مملکتوں کے لفظ کو مملکت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس قرارداد کے تیسرے نکتے میں اس مطالبے پر زور دیا گیا تھا کہ ”ہندوستان میں رہ جانے والی مسلمان اقلیت کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے مسلمان اکثریتی مملکت میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا“ ۔

اس مختصر قرارداد پر طائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ہندوستان کے آئندہ دستوری بندوبست کا ایک سیاسی مطالبہ تھا۔ اس میں کسی مذہب کی بنیاد پر حکومت قائم کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا اور نہ کسی مذہبی نظام کی بات کی گئی تھی۔ مزید وضاحت کے لیے لندن سے شائع ہونے والے ہفت روزہ Time & tide کی 9 مارچ 1940 کی اشاعت دیکھی جا سکتی ہے جس میں قائداعظم نے ”ہندوستان کا آئینی مستقبل! ہندوستان میں دو قومیں“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ اقتباس دیکھیے۔

”انگلستان جیسی قوموں میں باہم ہم رنگی کی بنیاد پر قائم جمہوری نظام کا ہندوستان جیسے متنوع ملک پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔ یہ سادہ حقیقت ہی ہندوستان کے تمام دستوری تنازعات کی بنیاد ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں، ایک کی تعداد زیادہ اور دوسری کی کم۔ تو یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ کثرت رائے کے اصول کی بنیاد پر قائم ہونے والے پارلیمانی نظام میں ہندوستان جیسی سرزمین پر عددی اکثریت رکھنے والی قوم ہمیشہ غالب رہے گی کیونکہ ہندو اور مسلمان اپنے ہم مذہبوں کو ووٹ دیں گے اور ناگزیر طور پر بڑی قوم چھوٹی قوم پر مستقل غالب رہے گی“ ۔

سیاست اور جمہوریت کے طالب علم قائداعظم کی اس رائے سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں کیونکہ قائداعظم نے جس انگلستان کو یک رنگ قرار دیا تھا، وہ ملک آج سات کروڑ کی آبادی کے ساتھ طرح طرح کے مذہبی اور ثقافتی تنوع کا نمونہ ہے اور اس تنوع کو تنازع کی بجائے اجتماعی توانائی کا سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ لندن کا میئر پاکستانی نژاد صادق خان منتخب ہوتا ہے تو ہندوستانی پس منظر رکھنے والا شہری وزیراعظم کے منصب پر متمکن ہے۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر، مسلم لیگ کے مدراس میں منعقدہ 28 ویں سالانہ اجلاس میں 15 اپریل 1941 کو لیاقت علی خان کی تقریر کا متن دیکھیے۔ یہ تقریر مجموعی طور پر ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ۔ پاکستان قائم ہونے کے بعد 11 اگست 1947 کو قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی میں شہریوں کی بلا امتیاز مساوات کا جو تصور پیش کیا تھا اسے دہرانے کی تو شاید ضرورت بھی نہیں۔ تاہم 21 مئی 1947 کو قائداعظم نے رائٹرز کے نمائندے ڈون کیمبل کو دہلی میں جو انٹرویو دیا تھا اس پر غور کرنا چاہیے۔ ایک جملہ ملاحظہ کیجئے۔

The Government of Pakistan can only be a popular representative and democratic form of Government. Its Parliament and Cabinet responsible to the Parliament will both be finally responsible to the electorate and the people in general without any distinction of caste, creed or sect…

قرارداد پاکستان کے متن اور مطالب کے اس تفصیلی تجزیے کا مقصد یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بانیان پاکستان کے تصور پاکستان سے ہونے والی کھلواڑ واضح کی جا سکے۔ ہم نے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ایک جمہوری اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب مٹی میں ملا دیا ہے۔ اس عمل کی بنیاد قائداعظم کی زندگی ہی میں سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے قدامت پسند مذہبی رہنماؤں نے شروع کر دی تھی۔ 12 مارچ 1949 کو قرارداد مقاصد منظور کر کے گویا پاکستان کا تشخص ہی مسخ کر دیا گیا۔ قرارداد مقاصد کی حقیقی دستوری حیثیت جاننے کے لیے ریاست بنام ضیا الرحمن PLD 1973 میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر توجہ کرنی چاہیے جو 8 جنوری 1973 کو دیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے قرارداد مقاصد کو دستور کی بنیاد تسلیم کرنے سے یکسر انکار کیا تھا۔

جنرل ضیا الحق نے ستمبر 1985 میں اس قرارداد کو دستور کے متن کا حصہ بنا کر دراصل سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی نفی کی تھی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد جنرل ضیا کے اس اقدام کو آٹھویں آئینی ترمیم کی قیمت کے طور پر اپنی سیاسی فتح قرار دیتے تھے۔ 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی آئینی نوعیت سمجھنا ہو تو اس کا موازنہ پاکستان بننے کے بعد علما کے ان بائیس نکات سے کرنا چاہیے جو انہوں نے جنوری 1951 میں آئینی مسودے کے نام پر تیار کیے تھے۔ قرارداد پاکستان ایک آئینی دستاویز ہے اور علما کے نکات میں دستور نامی عمرانی معاہدے کا بنیادی فہم ہی مفقود ہے۔

قیام پاکستان کے 9 برس بعد بالآخر اس ملک کو ایک دستور نصیب ہوا تو 1956 کا آئین نافذ کرنے کے لیے 23 مارچ کا دن منتخب کیا گیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ ہندوستان میں کانگرس نے 26 جنوری 1930 کی کامل آزادی کی قرارداد کی مناسبت سے اپنا آئین 26 جنوری 1950 کو نافذ کیا تو 26 جنوری کو یوم جمہوریہ قرار دیا۔ اسی کے اتباع میں پاکستان نے ڈومینین سے خودمختار ریاست کا درجہ حاصل کرتے ہوئے اپنا دستور 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا اور اسے یوم جمہوریہ قرار دیا۔ 1957 اور 1958 کے دو برس 23 مارچ پاکستان میں یوم جمہوریہ کے طور پر منایا گیا۔ پھر اکتوبر 1958 ہو گیا۔ یعنی سکندر مرزا اور ایوب خان نے 23 مارچ 1956 کو نافذ ہونے والا آئین ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ 1959 کا مارچ آیا تو سوال اٹھا کہ دو برس تک عوام کو 23 مارچ کے نام پر یوم جمہوریہ کا جو درس پڑھایا گیا تھا اسے ڈوسو کیس کی روشنی میں قائم ہونے والے ”نئے قانونی بندوبست“ کے حوالے سے کیا عنوان دیا جائے۔ کسی ”چشم بینا سے بہرہ ور اہلکار“ نے یہ سوچ کر 23 مارچ کو یوم پاکستان قرار دے دیا کہ پاکستان میں بندوق کی نوک پر حکومت ہتھیانے کی جو روایت پڑ گئی ہے یہ سلسلہ تو اب چلتا رہے گا۔

بار بار یوم جمہوریہ کی اذیت ناک یاد سے محفوظ رہنے کے لئے 23 مارچ کو ایسا نام دیا جائے جو جمہوریت یا آمریت میں یکساں کارآمد ہو۔ آج قریب 65 برس بعد قوم یوم جمہوریہ کی اصطلاح مکمل طور پر فراموش کر چکی ہے۔ نصابی کتابوں میں بھی 23 مارچ کو یوم پاکستان ہی لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ البتہ نہ کوئی 23 مارچ کو منظور ہونے والی قرارداد کا متن پڑھتا ہے اور نہ پاکستان کو لاحق مزمن بحران ختم ہوتا ہے۔

23  مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک اور موقع پر بھی بدنما زخم بن کے اترا تھا۔ 23 مارچ 1973 کو حزب اختلاف کے متحدہ جمہوری محاذ نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اجتماع میں راولپنڈی کے علاوہ پشاور، مردان اور چارسدہ وغیرہ سے بھی بڑی تعداد میں عوام شریک تھے۔ پیر پگاڑا کی صدارت میں مفتی محمود، ولی خان اور نوابزادہ نصراللہ خان جیسی صف اول کی سیاسی قیادت جلسے میں موجود تھی۔

سردار شیرباز مزاری کی تقریر کے دوران جلسہ عام میں گولی چل گئی۔ نامعلوم افراد نے بندوقوں، دستی بموں، چاقوؤں اور لاٹھیوں کا کھلم کھلا استعمال کیا۔ اس ہنگامہ آرائی میں 9 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد کے اغراض و مقاصد، عرصہ دراز ہوا، پس پشت ڈالے جا چکے۔ البتہ ہر برس 23 مارچ کو یوم پاکستان کے نام پر دارالحکومت سمیت بڑے بڑے شہروں میں پرشکوہ فوجی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp