اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی جلسے کی اجازت منسوخ کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس خارج کر دیا۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اگر کمشنراسلام آباد نے آرڈر معطل کیا ہے تو مدعی کو اس آرڈر کو چیلنج کرنا ہو گا۔
اس پر پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ان کو سزا تو دیں ان کی ملی بھگت سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ترنول جلسہ ملتوی کردیا، نئی تاریخ کیا ہوگی؟
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ آرڈر کو چیلنج کریں گے تو آرڈر کی قانونی حیثیت کا تعین ہوسکے گا محض اس درخواست پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں جاسکتی۔
یاد رہے کہ 6 جولائی کو پی ٹی آئی نے جلسے کا این او سی معطل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تحریک تحفظ آئین کے کوآرڈینیٹر اخونزداہ حسین یوسفزئی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود ترنول جلسے کا این او سی معطل کرنا توہین عدالت ہے لہٰذا عدالت این او سی معطل کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر دفتر سے عامر مغل کو گرفتار کر لیا اور پھر پورے ایک دن تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: ترنول جلسہ منسوخی کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ مقدمہ ہے تو متعلقہ فورم پر جائیں، یہ توہینِ عدالت تو نہیں بنتی۔
جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر کے آرڈر کو چیلنج کریں جو آپ نے نہیں کیا جس پر وکیل شعیب شاہین نے مؤقف اپنایا کہ ہم پھر آج ہی رٹ پٹیشن دائر کریں گے، یہ لوگ بدنیتی کر رہے ہیں اور ہمیں بھی کچھ نہیں کرنے دے رہے۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ دِلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے ہمیں تو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ایک آرڈر کیا چیف کمشنر نے اسے ختم کر دیا، اب آپ چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف درخواست دائر کریں۔
جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ آپ روزانہ یہی کرتے ہیں، سیاسی معاملہ طریقہ کار کو تبدیل تو نہیں کر دے گا۔ جسٹس بابر ستار نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست خارج کر دی۔














