امریکا کی نائب صدر اور متوقع صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وہ اس صورتحال پر خاموش نہیں رہیں گی۔
بی بی سی کے مطابق بھارتی نژاد امریکی کملا ہیرس نے اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ 40 منٹ کی ملاقات کے بعد اسرائیل اور اس کے دفاع کے حق کی حمایت تو کی اسے ایک دفاعی حق بھی قرار دیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل یہ کام کیسے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس کے بھارتی گاؤں والے کیا باتیں کر رہے ہیں؟
گفتگو کے دوران کملا ہیرس نے غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خود کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ لوگوں کی تکلیف کو محسوس نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس پر میں خاموش نہیں رہوں گی‘۔
کملا ہیرس نے نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیا تاہم غزہ میں قتل و غارت گری کے لحاظ سے ان کا لہجہ امریکا کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے کہیں سخت تھا۔ اس ملاقات سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی جو صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بند کردے اور جنگ بندی کا معاہدہ جلد از جلد ہونا چاہیے، اسرائیل اپنے یرغمالیوں کو گھر واپس لائے اور فلسطینی عوام کو مدد پہنچائے جس کی ان کو اشد اور فوری ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: لائیو شو میں مظاہرین امریکی نائب صدر کملا ہیرس پر بھڑک اٹھے، فلسطینیوں کی قاتل اور جنگی مجرم کے نعرے
واضح رہے کہ غزہ کا معاملہ امریکی انتخابات میں اس لیے بھی اہم ہے کہ جو بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کے باعث ملک میں بائیں بازو والے افراد خاصے برہم ہیں اور ان کی حمایت کھونا ڈیموکریٹ پارٹی کو نومبر میں صدارتی انتخابات کے دوران مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے دیکھا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن کی جگہ ممکنہ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس اگر صدر منتخب ہو گئیں تو وہ اسرائیل کی جانب کیا مؤقف اپنائیں گی۔ اگر کملا امیدوار بن جاتی ہیں تو پھر انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن جماعت کے امیدوار اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوگا۔














