چین کی الیکٹرانک کار انڈسٹری کی پاکستان میں لانچنگ سے عام شہریوں کو کتنا فائدہ پہنچے گا؟

بدھ 11 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقامی اور چینی کارساز کمپنیاں شراکت داری کے تحت پاکستان میں سنہ 2026 میں الیکٹرک گاڑیوں کا اسمبلی پلانٹ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاہم اسی سال الیکٹرک گاڑیاں فروخت کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

اب تک 3 ماڈلز لانچ کیے جا چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے پاکستان کی معیشت اور عوام پر کیا اثرات ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی کا پاکستان میں الیکٹرانک گاڑیوں کے لیے سرمایہ کاری کا عزم

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی محمد شہزاد نے وی نیوز کو بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو دنیا پیٹرول کے متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہے لیکن جہاں بجلی مہنگی ہوتی چلی جائے گی وہاں اس ٹیکنالوجی کا کام کرنا ممکن نہیں۔

محمد شہزاد کا کہنا تھا کہ بجلی کے ساتھ ساتھ دیگر سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہیں جن کو آج سے ہی دیکھنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں دنیا کے لیے سودمند ہیں اور ان کا سب سے بڑا فائدہ آلودگی سے پاک ہونا ہے اور دوسرا فائدہ سستے ایندھن کا استعمال ہے دنیا بھر کی طرح یہ ہمارے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم اس کے لیے آج سے ہی تیاری شروع کردیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے 40 برس سے ہم گاڑیاں اسمبل کر رہے ہیں لیکن ہم نے مینیوفیکچرنگ کی اور نہ ہی لوکلائیزیشن کی اور ہم اس حوالے سے کوئی ٹیکنالوجی نہیں لاسکے اگر ایسا ہوجاتا تو ملکی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ ہم گاڑیاں ایکسپورٹ کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے۔

مزید پڑھیے: چین کی کار ساز کمپنی کا پا کستان میں گاڑیاں متعارف کرانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگر کوئی الیکٹرک گاڑی پر کام کر بھی رہا ہے تو وہ یہاں پر پارٹس کو جوڑ رہا ہے بنا نہیں رہا تو جیسے ہم دیگر گاڑیوں کو جوڑ کر بیچ رہے ہیں ایسے ہی اگر الیکٹریکل کے ساتھ بھی کریں گے تو اس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔

محمد شہزاد مزید کہتے ہیں جہاں تک رہی بات لوکل اسمبلرز کو چینی الیکٹریکل کمپنی کے آنے پر اعتماد میں لیا گیا یا نہیں تو ان اسمبلرز نے تو پاکستانی قوم کو اتنا لوٹا ہے کہ جس کا کوئی اندازہ نہیں، یہ اربوں کھربوں روپے کما گئے ہیں جس کا ملک کو اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

چیئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹریکل وہیکل تب تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اس کے لیے سپر چارجر دستیاب نہیں ہوگا کیوں کہ جیسے پیٹرول ڈالا جاتا ہے ویسے ہی اگر یہ گاڑیاں بھی اسپیڈ سے چارج ہوں گی تو پھر ان کا مستقبل روشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اچھا چارجر بھی 8 گھنٹے چارج کے بعد 250 تا 300 کلو میٹر تک گاڑی چلا پاتا ہے اور سب سے بڑا مسلئہ یہی ہے کہ ہم سہولیات کیا دیں گے لیکن چین میں اس پر کام ہو رہا ہے۔

سابق چئیرمین پاکستان آٹو مینیوفیکچررز ایسوسی ایشن مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں چھوٹی گاڑی خریدنے والوں کی تعداد مہنگائی کی وجہ سے ختم ہو چکی ہے اور الیکٹریکل وہیکل کا مطلب ہے کہ وہ عام نہیں بلکہ اشرافیہ کے لیے آرہی ہے کیوں کہ یہ بہت مہنگی ٹیکنالوجی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ چین کی کمپنی یہاں دائیں ہاتھ سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں بنائے گی کیوں کہ چین میں تو ’لیفٹ ہینڈ ڈرائیو‘ گاڑیاں ہوتی ہیں لیکن دنیا کے 70 ممالک میں دائیں ہاتھ سے چلنے والی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں جن کو ہم ٹارگٹ کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی مارکیٹ میں مشہور گاڑیاں ناکام کیوں ہوئیں؟

مشہود علی خان کہتے ہیں کہ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ الیکٹرک کاریں آنے سے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہو جائے گی تو ایسے اثرات تو نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستانی تاجر کو سپورٹ کرنا ہوگا اور اپنی پالیسیوں کو دیکھنا ہو گا تاکہ پاکستان کے 100 برس مکمل ہونے پر ہمارے پاس دکھانے کو کچھ ہو جو فی الوقت تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک صابن تک نہیں بنا سکتے کیوں کہ ہمیں جب بھی کسی پروڈکٹ کی ضرورت پڑی ہم نے کہہ دیا کہ باہر سے منگوا لیں لیکن اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایکسپورٹ بیسڈ پالیسی بنائیں۔

مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ چائینیز کمپنیاں اگر آ رہی ہیں تو وہ اس بات کو مد نظر رکھ کر آرہی ہوں گی کہ وہ چارجنگ کی سہولیات فراہم کریں گی اور اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو یہ ان کی کامیابی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چینی اس وقت فاسٹ چارجنگ پر کام کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے اور جہاں تک لوکل مینیوفیکچررز کا تعلق ہے تو انہوں نے ہی تو چین کو دعوت دی ہے۔

ا ن کا کہنا تھا کہ امریکا اور یورپ بھی اس ٹیکنالوجی میں آگے ہیں لیکن چین اس میدان میں لیڈنگ پوزیشن پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بی وائی ڈی کی آمد سے پاکستان جلد الیکٹرک گاڑیاں برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا، وزیر خزانہ

مشہود علی خان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان اس سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے اور ہم کتنی حد تک لوکلائیزیشن پر جاتے ہیں کیوں کہ پاکستان میں ہی گاڑی بننے کا مطلب ہے کہ ہمارا بھاری زرمبادلہ باہر نہیں جائے گا اور اس وقت یہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے