ادارے صرف گفت و شنید اور رابطے کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ

منگل 24 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ادارے صرف گفت و شنید اور رابطے کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں۔

دو روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو گفت و شنید، اشتراک اور دیکھ بھال کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے، جسٹس منصور علی شاہ

انہوں نے کہاکہ ہمارا قانونی چارہ جوئی کرنے والا معاشرہ ہے، جس سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہمارے پاس ان مقدمات کو نمٹانے کے لیے صرف 4 ہزار ججز دستیاب ہیں، نئے مقدمات کی وجہ سے زیر التوا مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر جج نے کہاکہ اس مسئلے کا ہمارے پاس اے ڈی آر کی صورت میں حل موجود ہے جو کوئی راکٹ سائنس نہیں، مقدمہ بازی کا سب سے آسان حل اے ڈی آر ہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں مسئلے کے حل کے لیے اے ڈی آر کی طرف جانا ہوگا، زیر التوا مقدمات اے ڈی آر سینٹر میں منتقل کرنے کے لیے ضلعی سطح پر اے ڈی آر سینٹر بنانا ہوں گے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ شہریوں کو انصاف کی جلد فراہمی کے لیے اے ڈی آر سینٹرز میں مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے گا۔

اس موقع پر ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ بات چیت کرنا اہم اور ضروری ہے، جج کو ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہیے تاکہ متعصب نہ کہا جائے۔

یہ بھی پڑھیں کسی کے پاس اختیارنہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل نہ کرے، جسٹس منصور علی شاہ

بعد ازاں جسٹس منصورعلی شاہ نے تقریب کے اختتام پر شرکا میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟