اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، حزب اللہ

پیر 30 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ عبوری سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف تنظیم کے مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملہ کیا تو ہم بھرپور جواب کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم کون ہیں؟

حزب اللہ کے عبور سربراہ نعیم قاسم نےنامعلوم مقام سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے اپنا بھائی اور کھویا ہے جو اپنے جنگجوؤں سے پیار کرتے تھے، ہم جلد اپنے نیا سربراہ منتخب کریں گے اور لبنان اور غزہ کی حمایت کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے اندر 150 کلومیٹر حملے کرتے رہے ہیں، حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھی ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان میں اضافہ ہوگا، اگر اسرائیل لبنان میں زمینی کارروائی کرتا ہے تو ہم بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے حزب اللہ، حماس اور پاسداران انقلاب کے کون کون سے اعلیٰ کمانڈر شہید کیے؟

حزب اللہ کے عبوری سربراہ نے مزید کہاکہ اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا اور ہم جیتیں گے جس طرح ہم 2006 کی لڑائی میں اسرائیل سے جیتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ترک خاتون اول کی ‘زیرو ویسٹ تحریک’ عالمی سطح پر مقبول، اقوام متحدہ میں خصوصی دن منایا گیا

بھارتی اسٹاک ایکسچینج کو دھچکا: سرمایہ کاروں کے 10 لاکھ کروڑ روپے ایک گھنٹے میں ڈوب گئے

بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟