آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس: بینچ کی دوبارہ تشکیل قانون کے مطابق ہے، سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

جمعرات 3 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی گزشتہ روز سماعت کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی کی درخواست 3 روز زائد المیعاد ہے، جس کی عمران خان کے وکیل علی ظفر نے مخالفت کی، تاہم بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامہ کے مطابق یہ واضح ہے کہ فیصلہ کی وجوہات کے بغیر نظرثانی نہیں مانگی جا سکتی، تفصیلی فیصلہ جاری ہونے پر ہی غلطی کی وجوہات سامنے آ سکتی ہیں،63 اے کی نظرثانی تین ماہ اور 21 دن تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے دائر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آرٹیکل 63 اے نظر ثانی کیس: جسٹس منیب اختر کا سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں شمولیت سے انکار

عمران خان کے وکیل علی ظفر کو متعدد متفرق درخواستوں پر دلائل کی اجازت دی گئی، انہوں نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ملاقات کے لیے عدالتی ہدایات جاری کی گئیں، سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 19 مارچ کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے۔

c.r.p._197_2022_02102024 by Asadullah on Scribd

سپریم کورٹ کے حکم نامہ میں کہا گیا ہے  عدالتی آرڈر کے بعد صدر عارف علوی نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا، صدارتی ریفرنس اور 184 کی درخواستیں یکجا کر کے سنی گئیں، سابق چیف جسٹس نے 24 مارچ کو سماعت کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا،14  اپریل کو عمران خان نے بابر اعوان کے ذریعے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔

مزید پڑھیں: آرٹیکل 63 اے فیصلے پر نظر ثانی کے اثرات کیا ہوں گے؟

حکم نامے کے مطابق بابر اعوان نے نشاندہی نہیں کی کہ 11 سال سے زیر التوا بھٹو ریفرنس پر پہلے سماعت کی جائے، وہ بھٹو ریفرنس کیس میں بھی وکیل تھے، صدر وفاق کے اتحاد کی علامت اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، آئین یا قانون میں صدارتی ریفرنس میں تمام شہریوں کو نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں، عمران خان کے وکیل کے اعتراضات قابل جواز نہیں۔

حکم نامہ کے مطابق نظرثانی درخواست آؤٹ آف ٹرن مقرر ہونے کا جواز درست نہ ہونے پر مسترد کیا جاتا ہے، بینچ کی تشکیل پر عمران خان کے وکیل علی ظفر نے اعتراض اٹھایا، چیف جسٹس نے اپنے جوابی خط میں بینچ تشکیل سے متعلق وضاحت کی، حالانکہ چیف جسٹس قانونی طور پر وضاحت دینے کے پابند نہیں۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح غلط کی، مراد علی شاہ

سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے مطابق جسٹس منیب اختر نے بینچ میں شامل ہونے پر اپنی عدم دستیابی سے آگاہ کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بینچ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جس کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کیا گیا، بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے۔

’پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی یا چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، یہ اعتراض بھی مسترد کیا جاتا ہے، عمران خان کے وکیل نے صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت چیلنج کرتے ہوئے آرڈیننس کے تحت عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ اور ٹراسکرپٹ تیار کرنے کا بھی کہا، کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کی جاتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان