بالآخر 4 سال بعد وہ لمحہ آ ہی گیا جب پاکستان کرکٹ ٹیم نے گھر میں ٹیسٹ سیریز جیت لی۔ قومی ٹیم نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے جیت لی، اسی مقام پر 2 سال پہلے بھی دونوں ٹیمیں مدمقابل آئی تھیں مگر اس وقت انگلینڈ نے میچ 74 رنز سے جیت لیا تھا، ان 2 سالوں میں زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوا، بس چند جرأت مندانہ فیصلے ہوئے جن کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔
ملتان میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں جب انگلینڈ نے اننگز اور 47 رنز سے شکست دی تو لگا کہ اس بار بھی کچھ تبدیل ہوتا نظر نہیں آرہا، یعنی اسی ذلت کا سامنا ہونے والا ہے جس کا 2 سال پہلے ہوا تھا، مگر پھر کچھ فیصلے ہوئے، بڑے فیصلے، جرأت مندانہ فیصلے جس نے ہواوْں کا رخ ہی بدل دیا۔
ہمارے لیے تو یہ سوچنا بھی ممکن نہیں تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے گی اور اس میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو ڈراپ کردیا جائے گا، لیکن یہ ہوا اور نہ صرف ہوا بلکہ یہ ہونے کے بعد پاکستان ایک ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد سیریز بھی جیت گیا اور تاریخ میں ایسا محض دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان نے کسی سیریز میں پہلا میچ ہارنے کے بعد کوئی سیریز جیتی ہو۔ پہلی مرتبہ ایسا 1995 میں ہوا تھا جب زمبابوے نے ہرارے میں کھیلے گئے پہلے میچ میں اننگز اور 64 رنز سے اپ سیٹ شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان نے کم بیک کیا اور زمبابوے کو 1-2 سے شکست دے دی تھی۔
ہم یقیناً یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان نے یہ ٹیسٹ سیریز جیتی ہے، اور کہنا بھی ایسا ہی چاہیے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ سیریز کی کامیابی کا ذکر ہو اور نعمان علی اور ساجد خان کو بھول جائیں، ہم کیا، تاریخ کبھی ان دونوں کو نہیں بھول سکے گی۔
طویل عرصے بعد دونوں کی واپسی ہوئی، ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان کو ایک اور سیریز میں شکست کا خطرہ تھا، مگر دونوں آئے اور آتے ہی چھا گئے۔ دونوں بولرز نے سیریز میں 181 اوورز کروائے اور 39 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جی آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا، 40 میں سے 39 وکٹیں انہی دونوں نے حاصل کیں۔ نعمان علی کے حصے میں 20 جبکہ ساجد خان 19 وکٹیں حاصل کرسکے۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا ٹیسٹ میچ ہے جب کسی بھی فاسٹ بولر نے کوئی ایک بھی بال نہیں کروائی، یعنی جب کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاؤں نے ہوم ایڈوانٹیج اٹھانے کا فیصلہ کیا تو اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہی وہ کام تھا جو ناجانے کتنے عرصے سے نہیں ہورہا تھا اور ایسا کیوں نہیں ہورہا تھا، اس کے بارے میں اگر تحقیقات کی جائیں تو بہت کچھ سامنے آسکتا ہے۔
ہاں، جب اس بات کا ذکر ہوا تو مجھے گزشتہ دنوں رمیز راجہ کا ایک بیان یاد آگیا۔ کہتے ہیں کہ جب وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ تھے تو کپتان کو پورا اختیار دیا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی ہمیشہ ویسی ہی وکٹیں بنوائیں جیسی کپتان بابر اعظم کہتے رہے۔ اب جب یہ بیان سامنے آگیا ہے تو اس پر پوچھ گوچھ بھی ہونی چاہیے، لیکن ساتھ حیرت بھی ہوتی ہے کہ جب تک بابر کا ستارہ چمک رہا تھا، جب تک وہ سب کے ہیرو تھے تو رمیز راجہ بھی انہیں سر سے نیچے اتارنے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن جیسے ہی ٹیم سے وہ باہر ہوئے تو اس بیان کا سامنے آنا بہت عجیب سا لگا۔
بہرحال، اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے راہ میں آئی رکاوٹ کو ہٹا دیا، مگر اب اگلے محاذ کی تیاری کرنی ہوگی جو کسی بھی طور پر آسان نہیں ہے۔ یعنی دسمبر میں قومی کرکٹ ٹیم کو 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز جنوبی افریقہ میں کھیلنی ہے۔ گھر میں تو پچ سے فائدہ اٹھا لیا، اسپنرز نے مدد بھی کردی لیکن جنوبی افریقہ میں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ وہاں کی وکٹیں فاسٹ بولرز کے لیے سازگار ہوتی ہیں، جہاں باؤنس اور سوئنگ دونوں کا سامنا ہوگا، وہاں ہم کیا کریں گے اس بارے میں آج سے ہی پلاننگ کرنی ہوگی۔
اس مشکل محاذ میں بیٹسمین تو پریشان ہوں گے مگر ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم کن فاسٹ بولرز کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ لیکن ہم یہ کام سلیکٹرز پر ہی چھوڑ دیں تو بہتر ہے، ہمارے لیے تو آج یہی خوشی ہے کہ جس لمحے کا طویل عرصے سے انتظار تھا، وہ آج آگیا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













