’بھارتی عدلیہ آزاد ہے‘ سبکدوشی کے قریب بھارتی چیف جسٹس نے یہ بیان کیوں دیا؟

منگل 29 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی متنازع ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے سربراہ ریاستوں اور مرکز میں حکومتوں کے سربراہوں سے ملاقات میں کبھی زیر التوا مقدمات زیر بحث نہیں لاتے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ملاقاتیں اکثر انتظامی امور سے متعلق ہوتی ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی  سودا ہوا ہے، اس طرح کی ملاقاتیں ضروری ہیں کیونکہ ریاستی حکومتیں عدلیہ کے لیے بجٹ پاس کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی درخواست، بھارتی سپریم کورٹ سماعت پر رضامند

’ہم ملتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ڈیل ہوگئی ہے، ہمیں ریاست کے وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرنا پڑے گی کیونکہ انہیں عدلیہ کے لیے بجٹ دینا ہوگا اور یہ بجٹ ججوں کے لیے نہیں ہوتا، اگر ہم ملاقات نہ کریں تو ہمارا کام نہیں ہوگا۔‘

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے زور دیا کہ انتظامی سطح پر عدلیہ اور حکومت کے کاموں کے درمیان باہمی تعلق کے ساتھ بھارتی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ ’جب ہم ملتے ہیں، تو میرا یقین کریں، سیاسی نظام میں بہت پختگی ہوتی ہے اور ان ملاقاتوں میں میرے تجربے سے کوئی وزیر اعلی کبھی بھی زیر التوا کیس پر بات نہیں کرتا۔‘

مزید پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ نے بی جے پی کی پالیسی پر کارکن بن کر عمل کیا، شہباز شریف

بھارت میں گزشتہ ماہ اپوزیشن نے عدلیہ کی آزادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آئی چندر چوڑ کی ساکھ پر اس وقت سوال اٹھایا جب وزیر اعظم نریندر مودی گنیش پوجا کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔

اس دورے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا تھا کہ آئینی اداروں کے حکام اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان اس طرح کی بات چیت سے عدلیہ پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے، ریٹائرڈ ججوں اور سرکردہ وکیلوں نے چیف جسٹس کی اس ملاقات پر تنقید کی تھی، واضح رہے کہ روان برس ستمبر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے گھر گنپتی پوجا کے لیے جانے کا ویڈیو منظر عام پر آیا تھا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا معاملہ؛ بھارتی سپریم کورٹ 4 سال بعد سماعت کرے گا

واضح رہے کہ جسٹس چندر چوڑ 10 نومبر کو چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے، ان کے بعد جسٹس سنجیو کھنہ اگلے روز یعنی 11 اکتوبر کو چیف جسٹس کو حلف اٹھائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام

اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب

حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی