بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے شعیب اختر سے ہاتھ جوڑ کر معافی کیوں مانگی؟

بدھ 30 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے پاکستان کے عوام اور کرکٹرز کے رویے اور مہمان نوازی کا کھلے دل سے اقرار کیا ہے اور بھارتی ناقدین سے کہا ہے کہ جو لوگ پاکستان کو نہیں سمجھتے وہ اسے سمجھ بھی نہیں پائیں گے۔

حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وکرانت گپتا نے کہا کہ میں نے پاکستان کے 3 دورے کیے، وہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں، میں نے وہاں پل بھر کے لیے بھی بے چینی محسوس نہیں کی حالانکہ یہ دور تھا جب کراچی اور پشاور میں امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی نے اسلام آباد کو ایشیا کا خوبصورت ترین شہر قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ میچز کور کرنے اور دیکھنے کے لیے بھارتی میڈیا کے علاوہ ہزاروں شائقین بھی جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ مبالغہ آرائی بھی کی جاتی تھی کہ پاکستان میں رکشے والوں یا دکانداروں نے بھارتی شائقین سے پیسے نہیں لیے، ایسا بہت کم ہوا اور کسی کو اپنے پیسے چھوڑنے بھی نہیں چاہئیں لیکن مجموعی طور پر پاکستان کے لوگ پیار اور عزت دیتے تھے۔

’شعیب اختر نے میرے دھویں نکال دیے تھے‘

وکرانت گپتا نے کہا کہ پاکستان کے لوگ اور وہاں کے کرکٹرز بہت اچھے تھے، وہ خشک مزاج لوگ نہیں بلکہ وہ آپ سے کھل کر ملتے ہیں۔ وکرانت گپتا نے پروگرام کے دوران لیجنڈ کرکٹر ظہیر عباس کی مہمان نوازی کی بھی تعریف کی اور انضمام الحق کے غصے اور ان کے مذاق کا بھی ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی نیانیما باسو، مودی اور بریانی

شعیب اختر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں رہتے تھے، میں نے ان سے انٹرویو کی درخواست کی، پھر ایک دن انہوں نے مجھے اپنی بائیک کے پیچھے بٹھا لیا لیکن میں نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے لیے تھے کیونکہ انہوں نے 15 منٹ میں ہی میرے دھویں نکال دیے تھے۔

’پاکستان کرکٹ کا بیڑی غرق انہی لوگوں نے کیا‘

وکرانت گپتا نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اچھی تھی لیکن اس ٹیم کا بیڑہ غرق انہی لوگوں نے کیا جو پاکستان کرکٹ چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ بھارتی حکومت کا کرکٹ کے حوالے سے ایک مؤقف ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتی اور ہم بھارتی حکومت کے مؤقف کے ساتھ ہیں، 26/11 ہوا لیکن پاکستان نے اس طرح سے بھارتی حکومت کی مدد نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: جے شنکر کی پاکستان آمد: شاید اب پاک بھارت تعلقات میں کچھ نرمی آجائے، بھارتی صحافی سہاسنی حیدر

انہوں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کھیلی جارہی ہوتی تو ہم پاکستان سے حساب برابر کرلیتے، پاکستان کی موجودہ ٹیم کو تو آپ کسی بھی وقت ہرا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp