جے شنکر کی پاکستان آمد: شاید اب پاک بھارت تعلقات میں کچھ نرمی آجائے، بھارتی صحافی سہاسنی حیدر

منگل 15 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف بھارتی صحافی سہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر کا پاکستان آنا کافی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اس کانفرنس کو آن لائن جوائن کرسکتے تھے لیکن وہ خود آ رہے ہیں۔ ان کا آنا ہی ایک مثبت قدم ہے۔

دی ہندو اخبار کی نمائندہ سہاسنی حیدر کا وی نیوز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایس سی او  ایک بہت اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ 20 برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ چند برس قبل ہی انڈیا اور پاکستان اس کے ممبر بنے۔ اب ایران اور بیلا روس بھی شامل ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں مغرب مخالف بیانیے پر بھی بات ہوتی ہے اگرچہ یہ اس کے مقصد میں شامل نہیں ہے لیکن ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے ممالک کے مابین تنازعات چل رہے ہیں۔ روس اور یوکرائن کا، غزہ اور اسرائیل کا۔ اس طرح کی صورتحال میں ایسی علاقائی تنظیموں کی اہمیت ہوتی ہے۔ ایس سی او نے دہشتگردی، انتہاپسندی اور بنیاد پسندی پر بھی کافی کام کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے  پاکستان نے ایس سی او اجلاس کے لیے بہترین انتظامات کیے، بھارتی صحافی کی وی نیوز سے خصوصی گفتگو

سہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کے جو دو طرفہ تنازعات ہیں وہ اس طرح کی میٹنگز میں تو حل نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کواپریشن (سارک)  کی میٹنگز میں تو سب ممالک کے ہیڈز کا ہونا لازمی ہے۔ ایس سی او اجلاس میں تو کوئی نہ بھی ہو تو مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر آ رہے ہیں۔ وہ اب تک کسی بھی اجلاس کے لیے پاکستان نہیں آئے تھے۔ ایسے میں ان کا یہاں آنا کافی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیےشنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: بھارت سے دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کا امکان نہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان میں وزراء کی جو بھی میٹنگز ہوئیں، دوسرے ممالک کے وزراء نہیں آتے تھے۔ وہ آن لائن ہی جوائن کرتے تھے۔ اس بار بھی جے شنکر آن لائن جوائن کر سکتے تھے لیکن وہ خود آ رہے ہیں۔ ان کا آنا ہی ایک مثبت قدم ہے۔

 وہ کہتی ہیں کہ دو طرفہ مذاکرات کے بحال ہونے کا انحصار دونوں فریقین پر ہے لیکن اتنا ضرور ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی لیڈر شپ کے ساتھ بات چیت ہوگی، پھر ایک ڈنر بھی ہے۔ وہاں بات چیت ہو سکتی ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ کیا بات چیت ہوتی ہے۔ جو آگے چل کر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں دوطرفہ مسائل پر بات نہیں ہوگی

سہاسنی حیدر کہتی ہیں کہ بھارتی عوام کی پاکستان کے بارے میں رائے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سے 15 برس میں بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنا رخ بدلا ہے اور کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ خاص طور پر 2019 سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ سب کچھ بند ہوگیا۔ تجارت، ائیر لائن، بس لائن، ویزہ، ہائی کمشنرز، ان سب چیزوں کو مدنظر رکھا جائے تو اس پر ان کے درمیان باقاعدہ بات چیت نہیں ہو رہی، اگرچہ بیک اینڈ پر چلتی رہتی ہے۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو ان کا بھی آنا جانا نہیں ہورہا۔ شاید اب وہ بحال ہو سکے۔ جب تک انڈیا پاکستان کے دو طرفہ تعلقات بحال نہیں ہوتے اس وقت تک شاید معاملات پیچیدہ ہی رہیں گے۔ اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اس سے کم از کم جو 5 سال قبل چیزیں بند ہوئی تھیں وہ تو دوبارہ سے شروع ہو جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ