دو ہزار سولہ میں بھی یہی ہوا تھا۔سب انتخابی و سیاسی پنڈت کہہ رہے تھے کہ امریکی ووٹروں اور ووٹنگ سسٹم میں لاکھ خامیاں سہی مگر اب ایسا بھی نہیں کہ ٹرمپ جیسا مسخرہ ہلری کلنٹن جیسی تجربہ کار سیاستدان کو ہرا دے۔
دو ہزار چوبیس میں بھی یہی بتایا گیا کہ ٹرمپ کی اسقاط حمل مخالف سوچ کے سبب خواتین پہلے ہی بد ظن ہیں لہذا وہ سب کاملا ہیرس کے لیے ڈبے بھر دیں گی۔
اور خودساختہ سیانی مڈل کلاس کسی ایسے آدمی کو بارِ دگر کیونکر وائٹ ہاؤس میں گھسنے دے گی جس کی غیر ذمہ دارانہ کوویڈ پالیسی نے امریکی شہریوں اور معیشت کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا اور جس پر اس وقت مختلف عدالتوں میں ہیرا پھیری، قومی رازوں کے تحفظ سے لاپرواہی اور اخلاقی نوعیت کے چونتیس مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
اور یہ کہ غیر سفیدفام تارکینِ وطن بھی ٹرمپ سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی ٹرمپ کو ان سے ہے۔ اب اس مضحکہ خیز الزام کے بعد کون ووٹ دے گا کہ تارکینِ وطن ریاست اوہائیو میں پالتو بلیاں کھا گئے ۔لہذا اس بار ٹرمپ کا جادو نہیں چلے گا۔
پھر ہمیں بتایا گیا کہ ٹرمپ اور کمالا کے درمیان گردن توڑ مقابلہ ہے۔ سات سوئنگ اسٹیٹس میں جس کے حق میں بھی فیصلہ ہوا وہ چند ہزار یا چند سو ووٹوں سے ہی ہوگا۔
اور اب جو بھی ہے سب کے سامنے ہے۔ اہم ریاستوں میں دست بدست انتخابی لڑائی کا خواب ٹوٹی زرہ بکتر کی طرح بکھرا پڑا ہے۔ ہلری کے بعد کمالا دوسری خاتون امیدوار ہیں جنہیں ٹرمپ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
جہاں تک ہم جیسے لال بجھکڑ تجزیہ بازوں اور رائے عامہ کے نام نہاد جائزہ داروں کا معاملہ ہے تو ہم کل پھر کپڑے جھاڑ کے اٹھ کھڑے ہوں گے اور پنڈت گیری شروع کر دیں گے مگر باقی دنیا ٹرمپ کے دوسرے دور سے کیسے گزرے گی؟ شائد آپ کو یہ جاننے سے دلچسپی ہو۔
ڈیموکریٹ انتہائی اسرائیل نواز سہی مگر ٹرمپ تو کھلم کھلا نیتن یاہو سے کہتا ہے کہ ’ تمہارا غزہ تمہاری مرضی ‘ ۔۔
اگر ہم میں سے کسی کو یہ امید تھی کہ غزہ کے بچوں کی لاشیں ووٹروں کو سوچنے پر مجبور کر دیں گی تو عام امریکی ووٹروں کی اکثریت فلسطین سے جغرافیائی و ذہنی طور پر اتنی ہی دور ہے جتنا ہم جنوبی سوڈان، کانگو اور میانمار میں ہونے والے انسانی المیوں سے۔ دکھ تو ہوتا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ اس کا اثر ووٹ پر پڑ جائے اور یہ آپ نے کل عملاً دیکھ لیا۔
ویسے بھی ووٹر غزہ کو ذہن میں رکھ کے دونوں میں سے کسے ووٹ دیتا؟ مگر مچھ کو یا گھڑیال کو؟ چنانچہ ووٹ معیشت، امیگریشن اور روایتی اسٹیبلشمنٹ سے بیزاری کو ملا جیسا کہ دو ہزار سولہ میں ہوا تھا۔
ٹرمپ خاندان جو تعمیری صنعت اور لینڈ ڈویلپمنٹ سے وابستہ ہے۔ اس کے نزدیک غزہ ایک خوبصورت ساحلی پٹی ہے جس میں رہائشی و سیاحتی کاروبار کے بے پناہ امکانات ہیں۔ ٹرمپ کے داماد جارارڈ کشنر کے لیے غزہ ایک موقع کا پلاٹ ہے جو اگر موجودہ ’قابضین‘ سے خالی کرا لیا جائے تو اسرائیلی و امریکی لینڈ ڈویلپرز کے لیے ’ون ون سچویشن‘ ہے۔
اگر دو ایوانی کانگریس بھی ریپبلیکنز کے قبضے میں آ گئی تو نیچے سے اوپر تک بیورو کریسی میں سیاسی تقرریوں کے دائرے کو توسیع دیتے ہوئے دائیں بازو کے وفاداروں سے بھرنے کی ْبذریعہ قانون سازی کوشش ہو گی۔ امیگریشن پالیسیاں ٹرمپ کے گزشتہ دور کی نسبت سخت ہوں گی۔
چین سے ٹرمپ کا ہمیشہ سے اینٹ کتے کا ویر ہے۔ ٹرمپ مسلسل کہتا آیا ہے کہ
امیرزادوں سے ’بیجنگ ‘ کہ مل نہ تا مقدور
کم ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے
یعنی اگر امریکا میں بے روزگاری ہے تو اس کی وجہ سستے میں مزدوری کرنے والے غیرقانونی تارکینِ وطن اور جبری لیبر کے سبب چینی اور امریکی مصنوعات کی قیمتوں میں فرق ہے۔ چنانچہ امریکا آنے والی تمام بین الاقوامی درآمدات پر دس سے بیس فیصد محصول فوری طور پر لگایا جا سکتا ہے اور چینی مصنوعات پر ساٹھ فیصد تک ٹیکس بھی لگ سکتا ہے۔
اگر چین تائیوان پر بزور قبضے کی کوشش کرے تو چینی درآمدات پر ڈیڑھ سو سے دو سو فیصد ٹیکس بھی چیپا جا سکتا ہے تاکہ چین کو لگ پتہ جائے کہ اپنےسب سے بڑے تجارتی پارٹنر ( امریکا ) کے علاقائی مفادات پر ہاتھ ڈالنے کے کیسے مضر نتائج ہو سکتے ہیں۔
الیکشن جیتنے سے پہلے ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں کہا کہ شی جن پنگ ( چینی صدر ) میرا دوست ہے، وہ تائیوان کے لیے سنجیدہ خطرہ نہیں۔وہ جانتا ہے کہ میں واقعی پاگل ہوں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ میں صدر بننے کے بعد یوکرین کی جنگ چوبیس گھنٹے میں ختم کروا دوں گا۔ اگر یوکرین اپنا ذرا سا ٹکڑا روس کو دے دے تو اس سے کیا ہو جائے گا۔زیلنسکی ( یوکرینی صدر ) کب تک ہاتھ پھیلاتا رہے گا۔کوئی تو حد ہو گی۔
امکان ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین سے رفتہ رفتہ ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ نئی انتظامیہ شائد یہ موقف اختیار کرے کہ یوکرین ایک یورپی مسئلہ ہے لہذا روس جانے اور یورپ جانے۔
ایران کے ساتھ عالمی جوہری سمجھوتہ ٹرمپ نے ہی ختم کیا تھا۔ اگلے چار برس تک دوطرفہ مفاہمت کو فی الحال بھول جانا چاہیے۔
پیرس ماحولیاتی کانفرنس سے امریکا کو ٹرمپ نے نکال لیا مگر بائیڈن انتظامیہ نے دوبارہ طے شدہ ماحولیاتی پالیسیاں اپنا لیں اور الاسکا کی ریاست میں تیل اور گیس کے ذخائر کی ترقی پر روک لگا دی۔ بائیڈن انتظامیہ نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس رعایت بھی نافذ کی۔ اب یہ سب اقدامات شاید لپٹ جائیں اور آئیل لابی کو پہلے کی طرح کھلی چھوٹ مل جائے۔
خود ٹرمپ کا بھی عقیدہ ہے کہ ماحولیات کی ابتری محض پیٹ بھروں کا واہمہ ہے۔ قدرت جب بیمار ہوتی ہے تو خود کو اپنے طریقوں سے درست بھی کر لیتی ہے۔
کیا پاکستان ٹرمپ کے ریڈار پر ہے؟
خان صاحب کے حامی تو بہت خوش ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ صاحب ان کی دلجوئی کے لیے ایک آدھ ٹویٹ کردیں یا کوئی جملہ بول دیں مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے حفظِ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی آئینی ترامیم اور عہدوں کی مدت میں توسیع و ترقی کے ذریعے ضروری بند باندھ لیے ہیں جو کم از کم درمیانے درجے کا سیلاب روک لیں گے۔
افغان سیزن ختم ہونے کے بعد فوری طور پر پاکستان ویسے بھی امریکا کی اسٹرٹیجک ضرورت نہیں ہے۔ البتہ چین امریکا چپقلش کے تھوڑے بہت چھینٹے پاک امریکا تعلقات پر کبھی کبھار پڑتے رہیں گے۔ فی الحال جونئیر لیول کے امریکی اہلکار ہی پاکستان سے ڈیل کریں گے۔
پاکستان بھی چاہے گا کہ ٹرمپ کے ہوتے اس کے اندرونی معاملات جتنے کم فلڈ لائٹ میں آئیں اتنا ہی بہتر ہے۔ پاکستان کو بس اگلے چار برس میں اتنا کرنا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات قائم رہیں کیونکہ بیس فیصد پاکستانی برآمدات کی منڈی امریکا ہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا آئی ایم ایف کے فیصلوں میں زیادہ دخیل نہ ہو۔کیونکہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف میں چالیس فیصد ووٹ امریکا کے ہیں۔
باقی دنیا میں ٹرمپ کیا کرتا ہے؟ سانہوں کیہ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













