’بڑھتی دہشتگردی نے ہمیں بلوچستان سے ہجرت پر مجبور کردیا‘

منگل 12 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے حملوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک دہشتگردی کے 376 واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں مجموعی طور پر 253 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

بڑھتی شدت پسندی کے پیش نظر صوبائی کابینہ نے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 2024 کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ذمے داروں کا تعین  کیے جانے کے علاوہ صوبے میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کو نتیجہ خیز بھی بنایا جاسکے گا۔

ایک جانب جہاں بڑھتی دہشتگردی کے سبب جانی و مالی نقصان ہورہا ہے وہیں صوبے میں شدت پسندی کے سبب علاقہ مکینوں نے ہجرت بھی شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران دہشتگردی میں کتنا اضافہ ہوا؟

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے رہائشی محمد نواز (فرضی نام) نے بتایا کہ وہ ایک نجی کمپنی کے ملازم ہیں اور انہیں کام کے سلسلے میں مہینے میں کئی بار اندورن بلوچستان جانا پڑتا ہے لیکن حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے وہ کوئٹہ میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر میں نے اپنے اہل خانہ کو لاہور بھجوا دیا ہے۔

محمد نواز( فرضی نام) نے کہا کہ صوبے میں امن امان کی بگڑتی صورتحال نے مجھے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہل خانہ کو لاہور بھجوانے کے بعد اپنے جانے کے لیے بھی اسباب پیدا کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں صرف وہ ہی نہیں بلکہ کئی ایسے خاندان موجود ہیں جو دہشت گردی کے باعث اپنی جان جان بچانے کی غرض سے صوبے سے نقل مقامی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

کتنے ہزار کان کن ہجرت کرچکے؟

یہ کہانی صرف ان دونوں کی ہی نہیں بلکہ بلوچستان لیبر فیڈریشن کے مطابق دکی کوئلہ کان میں حملے کے بعد کان کنوں نے بھی کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

مزید پڑھیے: وفاقی اور بلوچستان حکومت کا دہشتگردوں کا سر کچلنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کا فیصلہ

اعدادوشمار کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زائد کان کن اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ چکے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں اس سے قبل سنہ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بھی دہشتگردی کی لہر چلی تھی جس کے نتیجے میں کئی افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس دوران بھی پنجابی بولنے والے افراد نے اپنی جائیدادیں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر دیگر صوبوں کی جانب ہجرت کرلی تھی۔

تاہم دہشتگردی کے واقعات کے باعث ایک بار پھر بلوچستان سے لوگوں کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور اگر صورت حال یہی رہی تو مستقبل قریب میں لوگ بہت بڑے پیمانے پر صوبے سے ہجرت کر جائیں گے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گورنر سندھ نہال ہاشمی مزار قائد پر کسی اور سے تاثرات قلمبند کراتے رہے، ویڈیو وائرل

پاک بنگلہ دیش سیریز: سلمان آغا کا متنازع رن آؤٹ، اسپورٹس مین اسپرٹ کی بحث چھڑ گئی

ایم کیو ایم کی طاقت عوام ہیں، خالد مقبول کا حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی کا اعتراف

وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے