اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے پر عوامی ردعمل: حقائق کیا کہتے ہیں؟

جمعرات 21 نومبر 2024
author image

طلحہ الکشمیری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے گزشتہ دنوں وی پی این (Virtual Private Network) کے حوالے سے حرمت کی ہیڈ لائن کے ساتھ فتوی صادر ہوا، چونکہ عوام نے تفصیل پڑھ کر بات کرنا مناسب نہ سمجھی، تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہو گیا، حرمت کے بعد حلت کی آوازیں بھی ابھریں، یوں قیل وقال میں اصل موضوع دب کر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی قیادت کی جانب سے عمان اور مراکش کے قومی دنوں پر تہنیتی پیغامات

اگر وطن عزیز میں بحث و مباحثے اور  تحقیق کا صحت افزا ماحول ہوتا تو عوام طنز و تحقیر کی بجائے فتوی کے مندرجات پر بحث کرتے، پر یوں ہوا نہیں، ضروری ہے کہ ہم ہر معاملے کی بغور دیکھیں، اس کے متعلق جانیں، اور پھر بات کریں۔ تاکہ لا یعنی بحث سے بچ جائیں۔  اسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ ہم وی پی این کو ملک کی سالمیت پر منڈھلاتے خطرات، نیز سماجی، اخلاقی، اور شرعی پہلوؤں پر بھی نظر ڈالیں تاکہ ہمارے سامنے ایک مکمل صورت ابھر سکے۔

وی پی این کی تاریخ اور تکنیکی ارتقا

وی پی این آن لائن پرائیویسی کے لیے ایک اہم ٹیکنالوجی ہے، جس کی بنیاد 1960 کی دہائی میں ARPANET کی ترقی سے پڑی۔ ARPANET نے پیکٹ سوئچنگ کا نظام متعارف کرایا، جو نیٹ ورکس پر محفوظ مواصلات کا پہلا قدم تھا۔ 1980 کی دہائی میں TCP/IP  پروٹوکول کے ذریعے انٹرنیٹ کی ترقی ہوئی، لیکن محفوظ مواصلاتی چینلز کی ضرورت بڑھتی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:اوورسیز پاکستانیوں کی سیاسی سرگرمیاں اور ان کے اثرات

1990  کی دہائی میں وی پی این ٹیکنالوجی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ 1996 میں مائیکروسافٹ کے ایک ملازم نے پوائنٹ ٹو پوائنٹ ٹنلنگ پروٹوکول (PPTP) تیار کیا، جو عوامی نیٹ ورکس پر محفوظ ڈیٹا ٹرانسمیشن کو ممکن بناتا تھا۔ اس دور میں Cisco Systems نے لیئر 2 فارورڈنگ (L2F) پروٹوکول بھی متعارف کروایا، جس نے وی پی این کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا۔ انٹرنیٹ پروٹوکول سیکیورٹی (IPsec) کی معیار کاری کی گئی، جس نے محفوظ مواصلاتی فریم ورک فراہم کیا۔ اس کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں سیکیور ساکٹس لیئر/ٹرانسپورٹ لیئر سیکیورٹی (SSL/TLS)  وی پی این متعارف کروائی گئی، جس نے صارفین کے لیے ایک آسان اور محفوظ براؤزنگ کا طریقہ فراہم کیا۔

وی پی این سے عام صارف اور کمپنیاں کیا کام لیتی ہیں؟

ٹیکنیکل زبان سے نکل کر اگر بات کریں تو وی پی این انٹرنیٹ پر صارفین کو خفیہ کنکشن فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین اپنے ڈیٹا کو انکرپٹ کر کے جغرافیائی پابندیوں کو عبور کرتے ہیں اور اپنی شناخت کو چھپا لیتے ہیں۔ نیز ان ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں جو حکومت یا کسی بھی ادارے نے فکری یا معاشرتی امن وامان قائم کرنے کے حوالے سے بند کی ہوتی ہیں۔

کمپنیوں کے لیے وی پی این محفوظ ریموٹ ورک کی سہولت فراہم کرتا ہے، حساس ڈیٹا کی ترسیل کو محفوظ بناتا ہے، اور عالمی ٹیموں کے ساتھ تعاون کو آسان بناتا ہے۔ وی پی این کا استعمال پرائیویسی، سیکیورٹی، اور غیر محدود انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے کیا جاتا ہے، جو اسے آج کے ڈیجیٹل دور میں ناگزیر بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبِ زمزم: برکت، معیار اور خدمت کی عظیم روایت

یہاں یہ سوال بھی ہے کہ  لیکن کیا صارفین اپنی شناخت چھپاکر مستقل طور پر حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپ سکتے ہیں؟

 تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی این صارف کی شناخت کو ایک حد تک محفوظ رکھتا ہے، لیکن حکومتیں اور انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز جدید تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے وی پی این کے استعمال کو ٹریس کر سکتی ہیں۔ اس لیے، یہ دعویٰ کہ وی پی این مکمل گمنامی فراہم کرتا ہے، مکمل طور پر درست نہیں۔

وی پی این اور قومی سلامتی کے چیلنجز

دہشت گردوں کے وی پی این استعمال کرنے کے شواہد موجود ہیں، جو وہ اپنی شناخت چھپانے اور حکومتی نگرانی سے بچنے کے لیے کرتے ہیں۔ وی پی این کے ذریعے وہ اپنے آئی پی ایڈریس کو ماسک کر کے انکرپٹڈ کمیونیکیشن کے ذریعے منصوبہ بندی، پروپیگنڈا اور نئے افراد کی بھرتی کرتے ہیں۔ یہ انہیں انٹرنیٹ کی پابندیوں کو ختم کرکے بلاک شدہ پلیٹ فارمز اور ڈارک ویب تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے حکومتیں وی پی این کے استعمال کو محدود یا ممنوع قرار دیتی ہیں کیونکہ یہ قومی سلامتی اور سماج کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ وی پی این سے دہشت گردی، جرائم، اور غیر قانونی سرگرمیوں کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ حکومتوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ وی پی این کے ذریعے صارفین انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں کو ختم کر کے ممنوع مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جیسے پروپیگنڈا، غیر اخلاقی ویب سائٹس، یا سماجی انتشار پیدا کرنے والے مواد۔

یہ بھی پڑٹھیں:علامہ اقبال اور شاہ عبد العزیز: ایک فکری رشتہ جو تاریخ نے سنوارا

معاشی نقطہ نظر سے، وی پی این جغرافیائی پابندیوں کو ختم کر کے حکومتی محصولات میں کمی اور انٹرنیٹ کے مقامی ضوابط کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں وی پی این کو رجسٹر کرنے کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ہیں مذکورہ بالا اسباب کے تناظر ہی میں کیے ہیں، جس سے وہی کمپنیاں کام کر سکتی ہیں جو حکومتی قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کریں۔

اسلام میں امن و امان کی اہمیت اور ریاست کا کردار

اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں مختلف آیات کے ذریعے امن کو نہ صرف انفرادی پر بلکہ اجتماعی، ریاستی سطح پر بھی اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ قریش میں انسان پر 2 عظیم نعمتوں کا بطور احسان تذکرہ کیا ہے: بھوک سے تحفظ اور خوف سے امن۔ یہ 2 چیزیں ریاست کے باسیوں کے لیے انتہائی اہم بلکہ اساس ہیں، انسان زندگی بھر بھوک مٹانے کے لیے جہدِ مسلسل میں مشغول رہتا ہے، جبکہ ریاست امن قائم کرنے میں۔ امن ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کا دل مطمئن ہوتا ہے، اور خوف و خطرہ ختم ہو جاتا ہے، جب امن ہوگا تو بھوک مٹانے کے اسباب بھی آسان ہوں گے۔

قرآن نے متعدد جگہوں پر امن کی مثالیں دی ہیں، مثلا سورۂ بقرہ میں  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا، اسی طرح اہل مکہ کے لیے سورۂ عنکبوت میں امن کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز قرآن کریم میں امن کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسا کہ دینی امن، دین اسلام پر عمل پیرا ہونے سے انسان خوف سے آزاد رہتا ہے۔ دوسرا ذہنی اور فکری امن، عقل کی حفاظت اور درست تعلیم و تربیت انسان کی فکری صلاحیتوں کو محفوظ بناتی ہے، اسی طرح قرآن میں معاشرتی تعلقات کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے، پھر معیشت میں انصاف، زکوٰۃ، اور تجارت کے ذریعے معاشی امن قائم ہوتا ہے، اور پھرریاستی اور قومی امن قائم رکھنے کے لیے قوانین نافذ کرنے اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور آخر میں قرآن عالمی امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعلقات، معاہدات، اور عدل کا درس دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی قومی کمیٹی برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس: عالمی سطح پر مملکت کی پہچان

ریاست ایک نظام ہے جو فرد کی زندگی، عزت، املاک، اور آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اللہ نے حاکم کو امن قائم رکھنے کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ (مفہوم) تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی۔

امن کا قیام اور عوام کو نقصان دہ عوامل سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا، ریاست اگر انٹرنیٹ پر کچھ مواد یا سروسز کو بلاک کرتی ہے، یا سروسز کو کسی قانون کے تحت منظم کرتی ہے تو یہ اقدام عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہو سکتا ہے۔

وی پی این کے استعمال پر شرعی نقطہ نظر: اخلاقی اور قانونی پہلو

شرعی طور پر وی پی این کے جواز کا انحصار اس کے استعمال کے مقصد پر ہے۔ اگر اسے قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، جیسے کہ ڈیٹا کا تحفظ یا جائز کاروباری معاملات، تو یہ قابل قبول ہے۔ تاہم، اگر اس کا استعمال کسی کو نقصان پہنچانے، جھوٹ وپراپیگنڈہ پھیلانے، یا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے ہو تو یہ واضح طور پر ناجائز ہوگا۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی عمل کی اجازت یا ممانعت کا فیصلہ اس کے اثرات اور نیت پر مبنی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کھجور کی برآمدات میں دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا

وی پی این ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جو درست استعمال کی صورت میں مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کا غلط استعمال نہ صرف اخلاقی بگاڑ بلکہ قانونی مسائل کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اسلام اور ریاست دونوں کا مشترکہ مقصد معاشرے میں امن و امان کا قیام ہے۔ عوام اور ریاست کے درمیان تعاون ہی معاشرتی استحکام اور ترقی کا ضامن ہے۔  لہٰذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کا استعمال احتیاط اور ذمہ داری سے کریں اور ریاستی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اجتماعی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp