پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران شہید ہونے والے رینجرز نائیک محمد رمضان شہید کرک کے رہائشی تھے۔ آپ نے 25 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے دوران جام شہادت نوش کیا۔

نائیک محمد رمضان شہید کے سوگواران میں والدین، بہن بھائیوں کے علاوہ دو کمسن بیٹے اور ایک معذور بیٹی بھی شامل ہے۔ جب کہ شہید کے والد پاک آرمی کے کور آف انجینئرز کے سبکدوش ہے اور انکا ایک بیٹا ابھی بھی پاک فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

شہید کے بھائی، خاندان اور اہل علاقہ انکی شہادت کو المیہ قرار دے رہے ہیں۔
اس حوالے سے ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’میرے بھائی احتجاج کے دوران فرائض سر انجام دیتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائر ہوئے۔ ہمیں بھائی کی شہادت پر فخر ہے اور اللہ تعالیٰ انکی شہادت قبول فرمائے اور انکی راہ ہمیں بھی گامزن کرے‘۔

نائیک محمد رمضان شہید کے کزن نے اس حوالے سے اپنے جذبات کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بلاوجہ کے احتجاج کی بھینٹ چڑھ گیا۔ہم سب کا فرض ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کو مقدم رکھیں اور پاکستان اور اس میں بسنے والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔

ان کے کزن نے مزید کہا کہ ’نوجوانوں کو چاہیے کہ ان احتجاجوں کا حصہ نہ بنیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہید نہایت ملنسار اور شریف النفس طبیعت کے مالک تھے۔ انکی شہادت پر پورا علاقہ غمزدہ ہیں۔














