مٹی کے برتنوں کا بڑھتا استعمال، گم گشتہ ثقافت کی واپسی

ہفتہ 14 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وقت کے ساتھ ساتھ لوگ دوبارہ قدرتی اور نامیاتی اشیا کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ماضی میں پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال زیادہ تھا لیکن اب لوگ دوبارہ مٹی کے برتنوں کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں اور انہیں اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں۔

مٹی کے برتن صحت کے لیے بیحد فائدہ مند ہیں۔ ان میں پکایا گیا کھانا قدرتی طریقے سے تیار ہوتا ہے اور ان کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ مٹی کی خصوصیت ہے کہ یہ کھانے کی غذائیت کو برقرار رکھتی ہے اور کھانے میں ایک خاص خوشبو اور لذت پیدا کرتی ہے جو پلاسٹک یا دھاتی برتنوں میں نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھیں: گرمیوں میں موٹی ملائی والا دہی مٹی کے برتن میں جمائیں، جانئے طریقہ

علاوہ ازیں مٹی کے برتن ماحول کے لیے بھی بہت سازگار ہیں۔ ان برتنوں میں پکایا گیا کھانا نہ صرف انسانی صحت کے لیے بہترین ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی لاجواب ہوتا ہے۔

اب شہروں کے لوگ بھی مٹی کے برتنوں کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں بھی ان مٹی کے برتنوں کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے: صابن کے بغیر برتن کیسے صاف ہوسکتے ہیں؟

مٹی کے برتنوں کا بڑھتے رجحان سے ہماری کھوئی ہوئی ثقافت بھی دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

پاکستان، امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، اسحاق ڈار

ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی، نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، ہارون اختر

پنجاب میں ’لیب آن ویلز‘ کا آغاز، کھیت میں ہی مٹی اور پانی کا فوری سائنسی تجزیہ

29 جولائی سے 5 اگست تک ملک بھر میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ

ویڈیو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر سب سے آگے، چیف الیکشن کمشنر نے پہلا مرحلہ شفاف قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی