حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے،مدارس ایشو پر متفقہ بل آج پارلیمنٹ میں پیش کیے جانیکا امکان

منگل 17 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایوان زیریں اور ایوان بالا سے منظور ہونے والے مدارس رجسٹریشن بل پر صدر زرداری کے اعتراضات کے پیدا ہونے والے تناؤ کے خاتمے کی کوشش، متفقہ بل آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان۔

یہ بھی پڑھیں:مدارس بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ

 مدارس رجسٹریشن بل پر مولانا فضل الرحمان کے شدید تحفظات اور حکومت کیخلاف تحریک چلانے کے عندیے کے بعد حکومت نے صورتحال افہام تفہیم سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مدارس کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کی طرف جارہا ہے۔

اس حوالے سے مدارس کے معاملے پر متفقہ بل آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

مدارس بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے

واضح رہے کہ گزشتہ روز اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی سپریم کونسل سے کہا گیا تھا کہ صدر کی جانب سے مدارس بل پر مقررہ وقت گزرنے کے بعد اعتراضات عائد کیے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اور ایسی صورت میں بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے، اس لیے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

گزشتہ روز اتحاد تنظیمات مدارس کی سپریم کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جس میں سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان، مفتی منیب الرحمان، مفتی تقی عثمانی اور دیگر نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:مدارس بل پر صدر مملکت کے اعتراضات قانونی اور آئینی ہیں، وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ

اجلاس میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ مدارس بل دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کو بھیجا گیا تو انہوں نے ایک غلطی کی نشاندہی کی، جسے درست کرنے کے بعد دوبارہ ایوان صدر کو ارسال کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر نے دوبارہ بل پر مقررہ وقت کے اندر اعتراضات عائد نہیں کیے جس کے بعد بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے، اس لیے حکومت گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم بات چیت اور آئینی و قانونی طریقے سے مسائل کا حل چاہتے ہیں، اگر حکومت نے ہماری بات نہ مانی تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں:مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے اعتراضات کیا ہیں؟

انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر بل پاس کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا ہوا، ہمارے مدعے کو سمجھا جائے، ہم کسی سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے۔

اس موقع پر مفتی منیب الرحمان نے کہاکہ اگر حکومت کی جانب سے ہماری بات پر دھیان نہ دیا گیا تو ہم دوبارہ اجلاس بلائیں گے، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور اس پر عملدرآمد بھی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:مدارس بل پر مولانا فضل الرحمان کیساتھ ہاتھ ہوگیا، ایمل ولی خان

انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں ملک کا امن عزیز ہے، ہم سے بڑھ کر کوئی محب وطن نہیں، سوال یہ ہے کہ صدر مملکت مقررہ وقت گزرنے کے بعد بل پر کیسے اعتراضات عائد کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟