پاکستان کے حال کو دیکھ کر وہ لوگ جو ملک کی تاریخ اور ماضی سے روشناس ہیں قطعی طور پر حیران نہیں ہوں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر موجودہ دور اک آئینہ ہے، جو کہ ماضی کے دور حکومت اور ان کے حکمرانوں کا عکس پیش کررہا ہو۔
ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور میں پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کی وہ مقبولیت آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں قائم ہے، لوگ ان کے لیے جان دینے کو تیار رہتے تھے۔ ایسی مقبولیت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کسی سیاست دان کو ملی ہو لیکن ہر عروج کے بعد زوال بھی آتا ہے۔
بھٹو صاحب نے جب جنوری 1977 میں جلدی میں 7 مارچ کو ملک بھر میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو الیکشن کے بعد اپوزیشن کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے) نے ان پر انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کردیا۔
دھاندلی کے الزامات آہستہ آہستہ ایک احتجاجی مہم میں تبدیل ہوتے گئے۔ پی این اے نے انتخابات کے اگلے ہفتے ہی ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے چار مطالبات رکھ دیے، جس میں پہلا مطالبہ بھٹو صاحب کا استعفی، دوسرا نئے الیکشن کمشنر کی تعیناتی، تیسرا مطالبہ ایک عبوری حکومت کا قیام اور چوتھا مطالبہ فوج کی معاونت سے ملک میں نئے الیکشن کا انعقاد تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پی این اے اتحاد کی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی اور ان کے الیکشن اعتراضات حل کرنے اور غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی۔ لیکن اس کے باوجود بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات کچھ بن نہیں پائی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی ماحول میں تلخی آتی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مذاکرات کی آفر ٹھکرا دی گئی، جس کے بعد بھٹو حکومت نے مخالفین سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا اور کئی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔
اس وقت بھی امریکی مداخلت کے الزامات لگائے گئے اور کہا گیا کہ امریکا اس سیاسی انتشار کے پیچھے ہے۔ پس پردہ ملاقاتوں اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات کے ذریعے یہ دعویٰ کیا گیا کہ بھٹو حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی امریکا مدد کر رہا ہے۔
بہرحال ہر گزرتے دن کے ساتھ پی این اے کے احتجاج میں شدت آتی گئی اور مارچ سے جون تک معاملات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ 5 جولائی کو جنرل ضیا الحق کو ملک میں مارشل لا لگانا پڑا اور بھٹو صاحب کے ساتھ ساتھ اہم اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حفاظتی تحویل میں لینا پڑا۔
اب اگر موجودہ دور کو دیکھیں تو عمران خان اس ملک کے ایک مقبول لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں لیکن جب ان کو حکومت ملی تو بجائے اس کے کہ وہ عوام کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتے، ملک میں کوئی حقیقی تبدیلی لاتے، عوام کو روزگار اور ریلیف دینے پر اپنی توانائیاں صَرف کرتے، معیشت کو پٹری پر لاتے اور پاکستان کا نام بین الاقوامی برادری میں روشن کرتے۔
لیکن اس کے برعکس عمران خان نے اپنے مخالفین کو دبانے پر اپنی تمام توانائیاں صَرف کردیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے کہ کبھی بھی تخریبی عمل سے تعمیری کام نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے عمران خان نے قوم کی تعمیر کی بجائے اس کی تخریب اور تقسیم پر زیادہ توجہ دی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب اپوزیشن جماعتیں بالکل کارنر ہوگئیں، عوام کو ریلیف کے بجائے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ملی تو حالات و واقعات ان کے خلاف ہوتے گئے۔ یوں ساڑھے تین سال میں ہی ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
حکومت جانے کے بعد عمران خان نے اسی دن سے مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے خلاف ایک عَلم بغاوت کھڑا کردیا، جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج و انتشار کا ہر حربہ آزمایا، لیکن اس کے باوجود بھی جب اپنے مقاصد میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے بالآخر مذاکرات کی پیشکش کردی۔ ستم ظریفی یہ کہ انہوں نے بھی ماضی کی طرح مذاکرات کے لیے کچھ شرائط عائد کردیں۔
اب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کے دو دور مکمل ہوچکے ہیں، جس میں کچھ وعدے وعید کیے گئے اور کچھ مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھے گئے، تاہم تحریری طور پر کچھ پیش نہیں کیا۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا قائم ہے، اور جو باتیں ان دو ملاقاتوں میں طے ہوئیں، میڈیا میں اس کے برعکس دعوے کیے جارہے ہیں۔ ایک دوسرے پر بد اعتمادی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
ایسے میں مذاکرات کی کامیابی تو درکنار، ان مذاکراتی کمیٹیوں کا ہی زیادہ عرصے قائم رہنا نظر نہیں آرہا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جس طرح بیانات دینا شروع کردیے ہیں، اور جس طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ مذاکرات زیادہ عرصہ نہیں چلیں گے۔
اوپر سے پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اداروں اور حکومت کے خلاف ایک باقاعدہ مہم شروع کردی ہے۔ ایسے میں ان مذاکرات کی کامیابی کی آس لگانا دیوانے کا خواب لگ رہا ہے۔ اور اس سے بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثتِ قوم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جارہے ہیں۔
تقریباً پانچ دہائیاں پہلے سیاسی معاملات کو دیکھیں اور موجودہ حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی ہر دہائی پچھلی دہائی سے مماثلت رکھتی ہے۔ نہ ہم سیاسی طور پر میچور ہوئے ہیں، نہ معاشرتی اور نہ ہی معاشی طور پر سنبھلے ہیں۔
حزب اختلاف کا کردار بھی ہمیشہ ہر دور میں ایک جیسا رہا، اور حزب اقتدار کا بھی، جب کہ دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات بھی ایک جیسے ہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب ایک میچور جمہوریت بنیں گے اور کب یہ ملک آئین اور قانون کی حکمرانی دیکھے گا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













