پاکستان میں وی پی اینز کے استعمال سے بڑا نقصان، رپورٹ جاری

بدھ 8 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ملک میں وی پی اینز کے استعمال سے ہر منٹ میں 10 ہزار ڈالرز کا نقصان ہورہا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ نقصان ایک ٹیرا بائٹ فی سیکنڈ کے اضافے کی وجہ سے ہے۔

پی ٹی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگست کے مہینے میں وی پی اینز کے ذریعے بینڈ وتھ کا استعمال 634 جی بی پی ایس تک پہنچا جب کہ دسمبر کے مہینے میں ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری آئی جس کی وجہ سے بینڈ وتھ کا استعمال 437 جی بی پی ایس پر آگیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں وی پی اینز کا زیادہ استعمال انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:سسٹم میں عارضی بینڈوتھ کا اضافہ، اب انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی، پی ٹی اے

پی ٹی اے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی سے واٹس ایپ نے اپنے سرور بیرون ملک منتقل کردیے۔ سیشن سرورز کی بیرون ملک منتقلی سے واٹس ایپ کے صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے لیے سب میرین کیبل کی گنجائش بڑھانا ہوگی اور مقامی راؤٹنگ سسٹم کو بہتر بنانا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بالی ووڈ میں فطری خوبصورتی کی واحد مثال کون؟ فرح خان کا چونکا دینے والا بیان

مہاراشٹر: نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا طیارہ حادثے کا شکار، 5 افراد ہلاک

برطانیہ میں غربت کی انتہا: نئی تصویر سامنے آ گئی، بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر

ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری

گیس سیکٹر پر بڑھتا دباؤ، انڈرگراؤنڈ گیس اسٹوریج منصوبے کی جانب پیشرفت

ویڈیو

امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟