بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں پھنسے کان کنوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، اب تک 4 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ آپریشن کے دوران دو ریسکیو اہلکار بے ہوش ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں دکی کوئلہ کان حملہ، کانکنی معطل، ہزاروں مزدوروں کے بےروزگار ہونے کا خدشہ
انتظامیہ کے مطابق پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاران ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو اصغر جمالی نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 2 ہزار فٹ پر ایک کان کن کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ اس کے بعد مزید 3 کان کنوں کی لاشیں ملی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کان میں گیس ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں شامل پی ڈی ایم اے کے 2 اہلکار بے ہوش ہوگئے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ مائنز انسپکٹر کے مطابق کان کن 4200 فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں کنوؤں اور کوئلہ کانوں میں پھنسے افراد کا سراغ لگانے کے لیے مقامی شخص کی کیمرا ڈیوائس کتنی کارگر؟
واضح رہے کہ گزشتہ شب سنجدی میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے کے باعث دھماکا ہوا تھا جس کے باعث کان بیٹھنے سے 12 کان کن پھنس گئے تھے۔














