سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس کے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی ہے، اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں بھی 6 ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا وجہ ہے کہ خواتین کو جوڈیشل کمیشن میں برابر کی نمائندگی نہیں دی گئی، جسٹس محسن اختر کیانی
چیئرمین سپریم جوڈیشل کمیشن جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کے لیے ناموں پر مشاورت ہوئی۔
اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی اور سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں سنیم سلطانہ اور خالد حسین کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج لگانے کی منظوری دے دی گئی۔ اس کے علاوہ عثمان علی ہادی، نثار بھبھرو، جعفر رضا اور حسن اکبر کے ناموں کی منظوری دی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے عبدالحامد، جان علی جونیجو، میراں محمد شاہ، علی حیدر، ریاضت علی، فیاض الحسن شاہ کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نامزدگی، پاکستان تحریک انصاف اور وکلا برادری کیا سوچ رہی ہے؟
سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی کے لیے 46 ناموں پر غور کیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن کو بھیجے گئے ناموں میں 6 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور 40 وکلا کے نام شامل تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی منظوری دی تھی، جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ناموں پر اتفاق کیا تھا۔














