مہنگائی نے خواتین کی عید شاپنگ کو بری طرح متاثر کیا ہے

جمعہ 21 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2018ء کے انتخابات کے بعد ہی سے پاکستانی معیشت مسلسل بے یقینی اور بحرانی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور اقتصادی صورتحال نے عام آدمی کی زندگی مشکل تر بنا دی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ  دی ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کی یہ شرح مزید بلند ہو گئی ہے۔

عید میں صرف چند دن باقی ہیں، ایسے میں ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق عید کی تیاریاں کر رہا ہے، مگر مہنگائی کی سطح میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہر چیز کی قیمت میں اضافے نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اسی حوالے سے جب وی نیوز  نے چند خواتین سے گفتگو کی تو ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اس قدر ہے کہ بہت سی ضروری چیزوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی چھوڑ دیا ہے۔ جیب اتنی اجازت ہی نہیں دے رہی کے عید کی مکمل تیاری کی جائے۔

تین وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے

35 سالہ شازیہ چار بچوں کی والدہ ہیں۔ انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ مہنگائی میں اضافے کے باعث تین وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ کہتی ہیں ان کے شوہر ایک آٹو کمپنی میں ملازم تھے مگر مہنگائی کے باعث ان کی کمپنی نقصان میں تھی ایسے میں کمپنی نے  جن چند ملازمین کو برطرف کیا ان میں ان کے شوہر بھی شامل تھے۔

چیز خریدنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑتا ہے

عید کی تیاریوں سے متعلق بات کرتے ہوئے شازیہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑتا ہے۔ کہتی ہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں شادی شدہ خواتین نے کیا خریداری کرنی ہے، میں نے تو اب تک اپنے لیے کچھ نہیں خریدا اور نہ ہی فی الحال ایسا کوئی ارادہ ہے۔

قیمتیں سن کر ان  خریداری میں دلچسپی ہی ختم ہو جاتی ہے۔

صرف بچوں کے عید کے کپڑے لیے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ صرف بچوں کے عید کے کپڑے لیے ہیں۔ اس بار تو جیب بچوں کے کپڑے لینے کی بھی اجازت نہیں دے رہی تھی مگر عید تو بچوں ہی کی ہوتی ہے۔ اگر میں بچوں کے لیے کپڑے نہ لیتی تو وہ دوسرے بچوں کو نئے کپڑوں میں دیکھ کر محسوس کرتے۔

بچوں کے لیے جمع پونجی سے کپڑے خریدے ہیں

شازیہ کہتی ہیں کہ وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتی ہیں۔ ان کی بھابھی نے رمضان کے پہلے عشرے میں ہی اپنے بچوں کی عید کی تیاری کر لی تھی۔ جس کے بعد میرے بچے روز مجھ سے یہ سوال کرتے تھے کہ ان کے عید کے کپڑے کب آئیں گے، تو پھر میں نے سوچا کہ زیادہ نہ سہی مگر کم از کم ایک جوڑا لے لینا چاہیے۔ شازیہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے پھول سے بچوں کی خوشی کی خاطر اپنی جمع پونجی سے کپڑے خریدے ہیں۔

اخراجات تنخواہ سے زیادہ ہیں

32 سالہ حنا ایک ملازمت پیشہ خاتون ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے حنا نے بتایا کہ مہنگائی نے ان کے پورے گھر کا بجٹ خراب کر دیا ہے۔ کہتی ہیں وہ اور ان کے شوہر دونوں جاب کرتے ہیں اور اس کے باوجود بھی ان کے گھر کے اخراجات ان کی تنخواہوں سے زیادہ ہیں۔

صرف ایک جوڑا لیا ہے

حنا نے عید کی تیاریوں کے متعلق بتایا کہ ہر سال کی نسبت اس سال عید کی تیاریاں بہت ہی معمولی رہی ہیں۔  پچھلے سال بھی مہنگائی تھی مگر اتنی زیادہ نہیں کے عام شخص کے لیے کچھ بھی خریدنا مشکل ہو جائے۔ اس بار عید کی شاپنگ کی ہے مگر صرف ضروری اشیا لی ہیں۔ کہتی ہیں جہاں پہلے بچوں کے تین یا چار جوڑے خریدتی تھی اب ان کے صرف دو دو جوڑے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی بات کروں تو اپنا صرف ایک جوڑا لیا ہے۔ کیونکہ کپڑے جوتے ہر چیز کی قیمت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

قیمتوں میں اضافے نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

قیمتیں سن کر دل ٹوٹ جاتا ہے

حنا نے مزید بتایا کہ چیزوں کی قیمتیں سن کر ان کو خریدنے میں دلچسپی ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس چیز سے دل ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کے بنا ہی عید پر گزارا کر لیا جائے۔

مہنگائی کچھ خریدنے ہی نہیں دے رہی

مہین بی ایس کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے رمضان کے آخری عشرے میں تقریباً روزانہ  کی بنیاد پر بازار کا چکر لگتا تھا، کیونکہ عید کی تیاری ہی پوری نہیں ہوتی تھی۔ شاپنگ کا یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہتا تھا، مگر پچھلے سال عید کی تیاریوں میں کچھ کمی آئی جب کہ اس سال تو مہنگائی کچھ خریدنے ہی نہیں دے رہی۔

کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑتا ہے۔

روز مرہ کا گزارا بھی بمشکل ہو رہا ہے

مہین نے بتایا کہ وہ 5 بہن بھائی ہیں اور وہ اُن میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے والد واحد کمانے والے ہیں۔ پہلے تو بابا کی کمائی میں تمام اخراجات بآسانی پورے ہو جاتے تھے بلکہ ان کی تنخواہ سے کچھ پیسے بچ بھی جاتے تھے۔ مگر پچھلے چند مہینوں سے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،جس کے باعث روز مرہ کا گزارا بھی بمشکل ہو رہا ہے۔

مہنگائی نے عید کی خوشیاں چھین لی ہیں

مہین کے مطابق انہوں نے اس عید پر کپڑوں کے علاوہ اور کچھ نہیں خریدا، کیونکہ ہم پانچوں بہن بھائی ایک ایک جواڑ بھی لیں تو 25 سے 30 ہزار بہت ہی معمولی سی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والد کی تنخواہ اور ملکی معاشی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے پچھلی عیدوں کے مقابلے میں کچھ خاص شاپنگ نہیں کی۔ انہوں مزید بتایا کہ مہنگائی نے ان سے عید کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ اب عید آنے کی وہ خوشی نہیں ہے جیسی کبھی ہوا کرتی تھی۔

کپڑے جوتے ہر چیز کی قیمت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

قیمتیں سُن کر سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

26 سالہ حرا فاروق ایک کالج میں فزکس کی لیکچرر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نےعید پر تمام تیاریاں اسی طرح کی ہیں جیسے وہ ہر سال عید کی تیاری کرتی ہیں۔ مگر وہ کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر چیز کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ قیمت دیکھتے ہی انسان چند سیکنڈ کے لیے رک ضرور جاتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ لیا جائے یا نہیں۔

شاپنگ جیب پر بہت بھاری پڑی ہے

حرا کے مطابق اس بار انہوں نے بازاروں میں اب تک اس طرح کا رش نہیں دیکھا جیسا کہ عام طور عید کے دنوں میں ہوتا تھا۔ یقیناً اس کی وجہ معاشی بحران ہے۔ مَیں خود کماتی ہوں اور شادی شدہ بھی نہیں ہوں اس کے باوجود بھی مجھے قیمتوں کے اضافے نے متاثر کیا ہے۔

حنا کہتی ہیں کہ عید کی تمام تیاریاں ہمیشہ کی طرح کی ہیں، مگر یہ شاپنگ جیب پر بہت بھاری پڑی ہے۔ مَیں خریدی ہوئی چیزوں کو جتنی بار دیکھتی ہوں تو ایک تکلیف سی محسوس ہوتی ہے کہ جو چیز پچھلے برس آدھی قیمت پر خریدی تھیں جب کہ وہی چیز اس عید پر دگنی قیمت پر ملی ہے۔

 

 

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟