آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات منصفانہ اور شفاف ہیں، حکومت اب مزید بجلی نہیں خریدے گی، اویس لغاری

پیر 3 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے بجلی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات آزاد، منصفانہ اور شفاف ہیں۔ حکومت اب مزید بجلی نہیں خریدے گی۔ آئی پی پیز کے پاس مذاکرات نہ کرنے یا ثالثی اور فرانزک آڈٹ کا آپشن ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے بجلی سے پاور سیکٹر انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں آئی ایم ایف، اے ڈی بی، آئی ایف سی، کے ایف ڈبلیو، جرمن سفارتخانے کے نمائندگان، ایف سی او ڈی، یو این ڈی پی اور اے آئی آئی بی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ اویس لغاری نے وفد کو پاور ڈویژن میں اصلاحات پر بریفنگ دی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو خوشخبری سنادی

ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیزکے ساتھ تمام مذاکرات آزادانہ اور شفاف طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت 5 سے 8 برس میں گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے روڈ میپ دے گی۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کی ریشنلائزیشن کرنے جارہی ہے۔ وفاقی وزیر نے ملکی معیشت کے لیے بجلی کے ٹیرف میں کمی کی اہمیت اور بجلی کی ہول سیل مارکیٹ پر بریف کیا۔

پاور سیکٹر انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے وفد نے پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے لیے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ