رودالی جسے سندھی میں ’بیلھانی‘ کہتے ہیں، اس کامنفرد کردار پچھلے 50 سال سے ہمارے معاشرے سے معدوم ہو چکا ہے۔ اسے عورت ہونے کی صورت میں ’رودالی‘ کا نام دیا گیا تھا اور ایسے مرد کو نوحہ گر کہا گیا، جس کے لیے چچا غالب نے بھی کہا تھا:
حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پِیٹوں جگر کو میں؟
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں!
رودالیوں اور نوحہ گروں کا مراثیوں کی طرح ایک طبقہ تھا۔ یہ لوگ اپنے سرپرست امیروں اور بڑے لوگوں کی خوشیوں میں ان سے زیادہ خوش ہوتے اور ان کے غم میں ان سے بھی زیادہ غمگین ہوتے۔ یعنی اگر کسی کھاتے پیتے گھرانے کا کوئی فرد انتقال کر جاتا تو اس طبقے میں شامل مقامی لوگ آتے اور میت پر وہ رونا پیٹنا مچاتے کہ لگتا کہ مرنے والا ان کے سر کا سائیں، بھائی یا بیٹا تھا۔ مگر تفصیل اس اجمال کی محض اتنی ہوتی کہ میتوں، جنازوں پر یا غم کے مواقع پر رونا پیٹنا اور غم کا برملا اظہار کرنا، ان نوحہ گروں، رودالیوں یا بیلھانیوں کا پیشہ تھا۔ انہیں بلایا ہی اس لیے جاتا تھا کہ مرنے والے کے اہلِ خانہ غم کا برملا اظہار کرنے میں سبکی محسوس کرتے تھے یا اپنے وقار کے منافی جانتے تھے، اس لیے اس کام کے لیے پروفیشنل رونے والے بلائے جاتے جو بین کر کر کے اور دھاڑیں مار مار کر روتے تھے۔ جن کے غم کے اظہار کا اثر، تعزیت کرنے والوں پر لازماً مرتب ہوتا تھا اور یوں پورا ماحول غمناک ہو جاتا۔
ہمارے ہاں اب وہ رودالیاں اوربیلھانیاں نہیں رہیں، وہ ماحول خواب وخیال ہوگیا ہے مگر نااُمید ہونے کی ضرورت نہیں کہ جس طرح ہر فیشن لوٹ کر آتا ہے، اسی طرح ہر رسم، روایت یا رواج کا بھی احیا ہوتا ہے۔ یوں رودالی ثقافت، نوحہ گر اور پیشہ ور رونے اوربین کرنے والے کردار یا اداکار، ایک بار پھر ہمارے غموں کا حصہ بٹانے کے لیے لوٹ آئے ہیں۔ اب کے وہ اپنی ان منفرد خدمات کا معاوضہ پہلے کی طرح لم سم لینے کی بجائے، فی گھنٹہ کے حساب سے وصول کرنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا احیا فی الحال ایسے ’مہذب‘ اور امیر ملکوں میں ہوا ہے، جہاں مزدور کو اُجرت فی گھنٹے کام کے حساب سے پہلے سے طے شدہ ملتی ہے۔ برطانیہ مائی باپ، جسے ہمارے بڑے ’ولایت‘ کہتے نہ تھکتے تھے، وہاں کئی آن لائن فرموں نے نوحہ گروں، رودالیوں یا Profesional Mourners کی خدمات مہیا کرنا شروع کر دی ہیں۔ اب غم کے مواقع کی Event Management ہونے لگی ہے، جس میں کمپنی، غمزدہ کنبے کی ضروریات کے مطابق سیاہ لباس میں ملبوس، غم سے نڈھال نظر آنے والے لوگ (اداکار) بھجواتی ہے۔ رونے، بین کرنے، مرحوم یا آنجہانی کی نادیدہ یا غیرموجود خوبیاں بیان کرتے کرتے سینہ کوبی کرنے والے نوحہ گر بھیجے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کردار فی گھنٹہ معاوضے پر بھی دستیاب ہوتا ہے یا پھر دو گھنٹے کی سروس (جنازے یا تدفین) کی یکمشت رقم وصول کی جاتی ہے۔
سندھ کی آخری رودالی غلاموں مائی، جس کی موت پر کوئی نہ رویا
سندھ میں رودالی ثقافت کا خاتمہ آج سے قریباً 15 سال پہلے ہوگیا، جب آخری رودالی مائی غلاموں مر گئی تھی۔ وہ جو عمر بھر دوسروں کی موت پر ماتم کرتی رہی تھی، اس کی موت پر ماتم کرنے والا کوئی نہ تھا۔
مائی غلاموں خیرپور میرس ریاست کے والیان کے دربارکی ’official ‘رودالی تھی۔ اس کے کنبے کو ٹالپر میرصاحبان آخر تک امداد دیتے رہے تھے۔ غلاموں کی دوسری ساتھی رودالی ’بھُنبھو‘ تھی جو اس سے بھی پہلے گزر گئی تھی۔ 2002 میں ایک انگریزی اخبار کے نمائندے نے اس آخری رودالی مائی غلاموں سے گفتگو کی تھی جو پڑھ کر مجھے اس سے ملنے کا شوق ہوا تھا اور میں ایک دوست کے ساتھ خیرپور میرس کے مضافاتی گوٹھ لقمان جاپہنچا تھا۔ وہ دمے کی بیماری کے آخری اسٹیج پر تھی اور اس سے بات بھی نہیں ہوپا رہی تھی۔ عمر بھر ماتم کر کر کے، سینہ پیٹ پیٹ کربالآخر وہ سینے ہی کے مرض میں مبتلا ہوگئی تھی اور آخری عمر میں بین کرنے کے قابل بھی نہ رہی تھی۔
سندھی زبان میں رودالی کے لیے ایک خاص سندھی لفظ ’’بیلھانی‘‘ ہے۔ اس وقت بیلھانیوں کے تین چار گھر بچ گئے ہیں جو خیرپور میرس شہر اور ضلع کے دو قصبوں کوٹ ڈجی اور میرمحمد کوٹ میں ہیں، لیکن وہ لوگ اب دوسری محنت مزدوری کرکے زندگی گزار رہے ہیں۔ جب 1955 میں خیرپور ریاست، حکومت پاکستان میں ضم کی گئی تو بیلھانی کنبے یا رودالیوں کے خاندان قریباً بے یارومددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ حکومت کی جانب سے رودالیوں کے فی کنبے کے لیے دس پندرہ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا تھا جو کہ مائی غلاموں کے بقول اس کی پتے کی بیڑیوں کے خرچے کے لیے بھی ناکافی تھا۔ آخری والی ِ ریاست میرفیض محمد کی جانب سے مائی غلاموں کے کنبے کو جو خصوصی بخششیں یا سوغات دی گئی تھی، اسے یہ مفلس کنبہ اب تک سنبھالے بیٹھا تھا۔ اس سوغات میں میر صاحب کی قیمتی لُنگی اور نادر قسم کی ایک تلوار شامل ہے۔ ان عطیات کو یہ لوگ اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
آزاد ریاست خیرپور میرس کے وقتوں میں بیلھانی یا رودالی کنبے انتہائی خوش اور مطمئن زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ ان کی عورتیں (بیلھانیاں، رودالیاں) محرم کے دنوں میں عزاداری کی گھریلو محافل میں میرخاندانوں کی خواتین کے سامنے ماتم کیا کرتیں اور نوحے مرثیے پڑھا کرتی تھیں۔ کچھ بیلھانیاں میروں کی شادی بیاہ میں ’سہرے‘ (خوشی کے گیت) بھی گایا کرتی تھیں۔ گو کہ رودالی خاندانوں کی روایت کے مطابق خوشی کے مواقع پر شرکت کرنا یا گانا بجانا احسن نہیں سمجھا جاتا کہ ان کی روزی روٹی صرف غم سے وابستہ تھی اور وہ موت ہی کو منانا اپنے فرائض میں شامل سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول رونا ہی ان کا روزگار ہے، ہنسی خوشی کا ان کی زندگی میں عمل دخل علامتی ہوتا ہے۔
’جن دنوں میں میرفیض محمد ٹالپر کی درباری یا خاندانی رودالی ہوا کرتی تھی، وہ میری زندگی کا بہترین وقت تھا۔ اس دور میں میر صاحبان اور ان کی رانیوں کی جانب سے ہماری سرپرستی بہت اچھے طریقے سے ہوا کرتی تھی۔ ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ریاست (خیرپور میرس) کے خاتمے کے بعد ہم ٹکے ٹکے کو محتاج ہوگئے۔ کسی نے ہم سے پوچھا بھی نہیں کہ تم لوگ روٹی ٹکر کیسے اور کہاں سے کھا رہے ہو؟‘
غلاموں مائی کے علاوہ ان کی ساتھی رودالی مائی بھنبھو کی یہی شکایت تھی کہ ریاست کے زوال کے بعد وہ لوگ ایک طرح سے ’یتیم‘ ہو کر رہ گئے۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ہماری ’بادشاہی‘ختم ہوگئی ہے۔
رودالیوں، نوحہ گروں کے بین
جب بھی میروں کے خاندان کا کوئی فرد فوت ہوتا تو رودالیوں کے کنبے تک فوراً اطلاع پہنچا دی جاتی تھی اور وہ فوراً سیاہ لباس پہن کر چھاتی پیٹتی، بین کرتی گلیوں سے دوڑتی ہوئی میروں کے محل یا قلعے پہنچ جاتی تھیں۔ ان کے اس طرح آنے سے علاقے بھر میں اطلاع بھی ہو جاتی تھی کہ شاہی کنبے کا کوئی فرد گزر گیا ہے۔ رودالی جنازے یا میت پر پہنچ کر پچھاڑیں کھاتی، خاک اُٹھا کر سر میں ڈالتی اور بلند آواز میں بین کرتی رہتی تھیں۔ ان کے بین مخصوص ہوتے، جنہیں مقامی بولی میں ’اوسارا‘ کہتے ہیں۔ ان اوساروں میں مرحوم میرکی بہادری اور گُن گائے جاتے تھے۔ اس کی فتوحات اور جنگی مہارت کا ذکر بھی ہوتا۔ جیسے یہ اوسارا جو مائی غلاموں اپنی لرزتی آواز میں میرفیض محمد ٹالپر کی موت پر گایا تھا:
’’آیا بادشاہ۔۔۔۔ آیا میر لشکر نال،
آیا میر، میڈا بادشاہ جھنڈے نال،
سواری سینگارو میر دی، موتیے گلابیں نال
آیا میر، میڈا میر لشکر نال!‘
رودالی یا بیلھانی اب صرف محرم مناتے نظر آتی ہیں
خیرپور میرس میں محرم الحرام کا مہینہ بہت عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں بیلھانی کنبوں کی ’باقیات‘ یعنی بچے کھچے افراد کا خاص کردار ہوتا ہے۔ محرم کے موقع پر بزرگ میر صاحب میر علی مراد خان ٹالپر بھی کراچی سے خاص طور پر خیرپور پہنچتے ہیں۔ وہ محرم کے جلوسِ عزاداری میں ننگے سر ننگے پاؤں شریک ہوتے ہیں۔ بیلھانی لوگ امام عالی مقام کی شہادت سے متعلق نوحے، اوسارے ترنم سے پیش کرتے آگے آگے چلتے ہیں۔ عورتوں کی عزاداری اور مجالس میں رودالیاں شریک ہو کر ماتم یا سینہ کوبی کرتی ہیں اور نوحے مرثیے پڑھنے کے ساتھ ساتھ رونا پیٹنا بھی کرتی ہیں۔ خیرپور میں مرکزی مجلس میرخان محمد خان کی ڈیوڑھی پر ہوتی ہے۔ میر صاحب خود کربلا عراق میں امام حسینؓ کے روضے کے قریب دفن ہیں۔
بیلھانی یا آخری رودالی غلاموں مائی نے اس بارے میں کہا تھا:
’کربلا ہمارے لیے کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایک کربلا عراق میں برپا ہوئی تھی تو دوسری دُبی کے میدان میں ہوئی، جب انگریزوں نے میروں کو ہرا کر سُونہاری سندھ پر قبضہ کیا‘۔
راجستھان کی رودالی یا پیشہ ور نوحہ گر
بھارتی ریاست راجستھان میں اعلیٰ ذات کی خواتین سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان کا وقار عام لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار نہ کرنے میں ہے۔ اس لیے ان کی جگہ رونے کے لیے نچلی ذات کی رودالیوں کو بلایا جاتا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جب کوئی بستر مرگ پر جاتا ہے تو راجستھان میں رودالیوں کو موت کی رسم کی ادائیگی کے لیے بلا لیا جاتا ہے۔ موت کے بعد رودالیاں کالے دوپٹے اوڑھ کر گھر کی خواتین کے درمیان بیٹھ جاتی ہیں اور رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ وہ سینہ کوبی کرتی ہیں، زمین پر لوٹ پوٹ کر بین بھی کرتی ہیں۔ ان میں سے سینیئر رودالی، بیوہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ بہ آواز بلند روتی اور بین کرتی جاتی ہیں:
’ارے تھارو تو سہاگ گیو رے!۔ اب اس دنیا میں تمہارے رہنے کی وجہ کیا ہے؟‘ اور ایک بار پھروہ اپنا سینہ پیٹنا شروع کردیتی ہیں۔
یہ رسم موت کے بعد 12 دنوں تک جاری رہتی ہے۔ جتنے زیادہ دن سوگ منایا جاتا ہے، اتنا ہی وہ خاندان خوشحال تصور کیا جاتا ہے لیکن اب تعلیم کی شرح میں اضافے اور نقل مکانی کے سبب لوگ خاموشی سے آخری رسوم ادا کرنے لگے ہیں اور رودالیوں کی وقعت اور کردار ختم ہوتا جا رہا ہے۔
آج کے دور کی سب سے کامیاب رودالی لیو جن لِن
تائیوان کی لیو جن لِن کو آج دُنیا میں سب سے عظیم رودالی قرار دیا جاتا ہے۔ کسی غیرشخص کی موت پر دھاڑیں مار مار کر رونا اور تدفین کے بعد نارمل ہو کر مرنے والے کے ورثا سے پیسے بٹور کر بالکل نارمل ہو کر روانہ ہو جانا۔ بے شک اداکاری کی معراج قرار دی جاسکتی ہے۔ تائیوان کی 36 سالہ خاتون لیوجن لِن ایسی اداکاری روزانہ کر کے اپنی صلاحیتیں منواتی رہتی ہیں اور بنک بیلنس بھی بھاری کرتی جارہی ہیں۔ لیوجِن کو آج دُنیا کی عظیم ترین رودالی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ رونے پیٹنے، بین کرنے، ماتم کرکے ماحول کو غمزدہ کردینے میں بہت مہارت رکھتی ہیں۔ تائیوان میں پیشہ ورانہ نوحہ گری اور رودالی ثقافت معدومی کے خطرے سے دوچار ہو چکی تھی مگر لیوجن لِن نے اسے ایک بار پھر زندہ کردیا ہے اور اب ہر اہم شخص کے مرنے پر انہیں منہ مانگے معاوضے پر بلوانا، لواحقین کے لیے ایک اسٹیٹس سِمبل بن چکا ہے۔
تائیوان کے کلچر میں یہ صدیوں سے شامل ہے کہ مرنے والے کو بلند آواز سے روپیٹ کر رُخصت کیا جاتا ہے تاکہ وہ یہ دُنیا چھوڑ کر آسانی سے دوسری دُنیا میں پہنچ جائے۔ ان کی روایت کے مطابق اگر مردے کو ماتم اور غمناک ماحول میں دفن نہ کیا جائے تو اس کی روح اِسی دُنیا میں بھٹکتی پھرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مردہ شخص کو پیشہ ور نوحہ گروں یا رودالیوں کی مدد لے کر رُخصت کیا جائے۔ اس حوالے سے جب لیوجن لِن سے پوچھا گیا کہ وہ اس کلچر کو کس طرح دیکھتی ہیں تو انہوں نے جواب دیا:
’اس کا پس منظر تو بہت قدیم ہے مگر میں ماضی قریب کے ماحول سے متعلق آپ کو اس کی ضرورت سے آگاہ کرتی ہوں۔ آج سے نصف صدی پہلے تائیوان میں روڈ رستے اور پبلک ٹرانسپورٹ بہت نایاب تھی۔ ایسے ماحول میں ہر گھر کی لڑکیاں دوسرے شہروں میں جاکر ملازمتیں کرتی تھیں تو برسوں یا مہینوں تک گھر نہیں آپاتی تھیں۔ اس دوران فرض کریں کہ ان کا باپ گزر جاتا تو وہ اس کی تدفین میں بھی بروقت شرکت نہیں کرسکتی تھیں۔ تب یہاں رودالی کا کردار اہم ہوگیا، جسے مقامی ثقافت میں ’عارضی بیٹی‘ قرار دیا جاتا تھا۔ یوں وہ رودالی سوگوار کنبے میں آکر غمناک کردار ادا کرتی اور ’باپ‘ کو رُخصت کرتی تھی۔ اس کے بدلے میں لواحقین اس لڑکی کو مناسب معاوضہ ادا کرتے تھے۔ یہ روایت آج پھر زندہ اور تابندہ ہوچکی ہے۔ اب تو ٹرانسپورٹ ذرائع کی سہولیات بہت ہیں مگر اب یہ ہے کہ ہمارے جذبات سرد پڑ چکے ہیں، رشتوں ناتوں کے حوالے سے ہم بہت زیادہ پُرجوش یا attached بھی نہیں رہے ہیں۔ اس لیے لوگ غم کے موقع پر یہ ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ خود رونا پیٹنا نہیں کرسکتے تو ایسے کرداروں کو بلالیں جو ایسے غم کے موقع کو غمناک بنانے میں مدد دیا کریں۔ یوں میں نے یہ جگہ پُر کی ہے اور آج مجھے ملک بھر سے بلکہ بعض اوقات تو چائنا اور دوسرے قریبی ملکوں سے بھی بلاوے آجاتے ہیں کہ آکر ہمارے مرنے والے فرد کو رو دھو کر رُخصت کریں۔‘
لیوجن لِن تنہا یہ سب نہیں کرتیں بلکہ اس کام کے لیے انہوں نے اپنا ایک بینڈ بنایا ہوا ہے، جس کا نام Filial Daughters ہے۔ وہ لوگ چمکیلے کپڑے پہنتے ہیں۔ بینڈ ممبران لیوجن لِن کے آس پاس آہستگی سے حرکات وسکنات کرتے رہتے ہیں تاکہ غمگینی کا تاثر مرتب ہوسکے۔ لیوجن لِن ماتمی آواز میں بین کرتی، ماتم کرتی، مرنے والے کی خوبیاں گِنواتی رہتی ہیں۔ لیوجن لِن کا بھائی اے جی بھی بینڈ ممبر ہے جو ساز و آواز کے آہنگ کا انچارج ہوتا ہے۔ لیوجن لِن کی آواز اور آلاپ بہت بلند ہوتے ہیں، جس میں غم کا تاثر نمایاں ہوتا ہے۔ اس کی آہ وبکا اور نالہ وشیون ایک بیٹی جیسے ہوتے ہیں جو کہ والد کی اچانک وفات پر غم سے نڈھال ہوتی ہے:
’میرے پیارے ابا! تمہاری محروم بیٹی بہت غمگین ہے۔ پلیز۔۔۔ پلیز، اسے چھوڑ کر نہ جائو۔۔۔ واپس آجائو۔‘
لیوجن لِن کی آواز اتنی تاثرانگیز ہوتی ہے کہ سننے والوں کا کلیجہ کٹنے لگتا ہے اور وہ جن کا مرنے والے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا، ان کی بھی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل بھر آتے ہیں۔ یہی لیوجن لِن کی کامیابی ہوتی ہے، اسی لیے اسے عہد حاضر کی سب سے عظیم رودالی قرار دیا جارہا ہے۔
جب لیو سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اتنی بروقت اور متاثرکُن اداکاری کیسے کر لیتی ہے کہ جب چاہتی ہے اس کے آنسو بہنے لگتے ہیں، جب چاہتی ہے، تب سینہ کوبی اور ماتم میں دیگر لوگوں کو شریک کرلیتی ہے؟ اس کے جواب میں لیوجن زور دے کر کہتی ہے:
’اس میں اداکاری یا بناوٹ کا کوئی کردار ہی نہیں، یہ سب حقیقی ہوتا ہے۔ میں اتنا تصور کر لیتی ہوں کہ مرنے والا واقعی میرے اپنے گھر کا فرد، باپ یا بھائی ہے۔ اس کے بعد باقی سب مراحل آسان ہو جاتے ہیں۔ میرا رونا پیٹنا بھی اصلی ہو جاتا ہے اور آہ وبکا بھی اثرانگیز ہو جاتی ہے۔ جب میرے اردگرد درجنوں لوگ روتے بلکتے ہیں تو ان کا اثر مجھ پر بھی ہوتا ہے اور میری غمگینی اصلی ہو جاتی ہے۔‘
لیوجن لِن کی نانی اور ماں بھی رودالی تھیں مگر جو شہرت اور دولت لیو کے حصے میں آئی ہے، اس کا ان دونوں عورتوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ جب لیوجن لِن کی ماں اور نانی جنازوں یا میتوں میں ’پرفارم‘ کیا کرتی تھیں، تب لیوجن ایک ننھی بچی کے طور پر ان کا مشاہدہ کیا کرتی تھی۔ وہ گھر آکر آئینے کے سامنے گھٹنوں کھڑی ہو کر ماں یا نانی کی نقل کیا کرتی اور اس طرح آہستہ آہستہ وہ خود بھی ایک رودالی بن گئی اور ایسی بنی کہ آج اس کی شہرت دُنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔
لیوجن کی نوعمری ہی میں اس کی ماں اور باپ گزر گئے تھے، وہ اور اس کے دو بھائی نانی کی ذمہ داری بن کر رہ گئے۔ ان کی نانی اپنے نواسے نواسی کے والدین کا قرضہ چکانے اور اپنی زندگی کی گزر بسر کے لیے ان تینوں کو خاندانی بزنس یعنی نوحہ گری Professional Mourning میں لے آئیں۔ اس کے لیے ان کو صبح سویرے اُٹھ کر ’ریاض‘ کرنا پڑتا تھا یعنی رونے، پیٹنے، سوگوار نظر آنے، ماتم کرنے کی مشق کرنا ہوتی تھی۔ جب وہ اس ریاض کے باعث اسکول تاخیر سے پہنچتی تو اس کی کلاس فیلو لڑکیاں اور لڑکے اس کا مذاق اُڑاتے، اس کے کام سے متعلق اسے طنز وتشنیع کا نشانہ بناتے اور اس کا جینا عذاب کردیتے تھے۔ دوسری جانب جب لیوجن لِن اور اس کے بھائی کسی جنازے پر آتے تو لواحقین کا رویہ بھی رُوکھا سُوکھا ہوتا، وہ انہیں مالی بوجھ سمجھتے اور طنز سے بھی گریز نہ کرتے حالانکہ خود کال کرکے بلاتے تھے۔
’مگر جب ہم پرفارم کرلیتے تو وہ ہم سے زیادہ اور اصل طور پر سوگوار، غمزدہ ہوچکے ہوتے اور ہمارے احسان مند نظر آتے۔ بار بار شکریہ ادا کرتے اور طے شدہ رقم سے بھی بڑھ کر معاوضہ ادا کرتے۔‘
اس کام نے لیو اور اس کے خاندان کو غربت سے نکال کر خوشحال بنا دیا ہے۔ اب لیوجن لِن، اس کی نانی اور لیو کے دونوں بھائیوں کے پاس الگ الگ گھر ہیں جو تائے پے کے پوش علاقوں میں ہیں۔ آج کل ان کی عزاداری والی کمپنی فی پرفارمنس 600 ڈالر یا اس سے بھی زیادہ معاوضہ چارج کرتی ہے۔
نوحہ گروں کا ماقبل تاریخ پس منظر
پیشہ ورانہ نوحہ گروں اور رودالیوں کی موجودگی کے اولین شواہد 1550 قبل مسیح تا 1295 قبل مسیح سے ملتے ہیں۔ اس کے بعد بحیرہ روم کے خطے کے علاقوں، مشرق بعید، چین، مشرق وسطیٰ اور برصغیر میں رودالی کلچر دیکھنے میں آیا اور ماضی قریب میں یعنی آج سے کوئی ایک دو عشرے پہلے تک موجود رہا ہے۔ بائبل میں اس طبقے کی موجودگی، صلاحیتوں اور اثرورسوخ سے متعلق مواد موجود ہے۔ فن لینڈ کے ماقبل تاریخ ادب مکیار شاعری یا یُوگرک داستانوں میں بھی کسی بڑے آدمی کی موت پر سینہ کوبی کرنے اور بین کر کے رونے والی عورتوں یعنی رودالیوں کے قصے ملتے ہیں۔ مصری اہراموں میں بھی فرعون کی موت پر رودالیوں کی آہ و بکا کے دیواری نقش نظر آتے ہیں۔ جہاں تک شعر و ادب کا تعلق ہے تو بالزاک کے 1835 کے شہرہ آفاق ناول ’Le Pere Goriot‘ کے مرکزی کردار بھی نوحہ گر کی دو بیٹیاں ہیں جو باپ کے مرنے پر رودالیاں بن جاتی ہیں۔ 1993 میں بالی وڈ میں ایک مووی ’رودالی‘ بنی تھی، جس نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ اس کی ہیروئن ڈمپل کپاڈیہ نے یہ کردار ادا کیا تھا۔ فلیپائنز میں بھی ایک مووی اس موضوع پر Crying Ladiesکے نام سے مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













