امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں، اور عالمی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ پیشرفت کسی بڑے معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے یا محض وقتی تناؤ میں کمی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خاموش مگر متحرک سفارتکاری بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں بیک چینل رابطوں، علاقائی ہم آہنگی اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر کام کیے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان اب ایران اور امریکا کے درمیان جامع معاہدہ کروانے کے لیے کیا کوششیں کررہا ہے؟ اور کیا اسلام آباد محض سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے یا کسی جامع معاہدے کے خدوخال بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں؟
مزید پڑھیں: ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، شرائط نرم کردیں، امریکی اخبار کا دعویٰ
پاکستان نے ایرانی تجاویز امریکا تک پہنچا دی ہیں، جلیل عباس جیلانی
سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی کے مطابق پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر متحرک ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان تعطل ختم کروانے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے کچھ تجاویز موصول ہوئی ہیں، جنہیں پاکستان نے مؤثر سفارتی ذرائع کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی کوششیں صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں بلکہ اس سلسلے میں خلیجی شراکت دار ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے، تاکہ ایک وسیع تر علاقائی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور کسی ممکنہ جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
پاکستان اس وقت ایک منفرد سفارتی پوزیشن میں ہے، آصف درانی
سابق سفارتکار آصف درانی کے مطابق پاکستان اس وقت ایک منفرد سفارتی پوزیشن میں ہے، جہاں اس کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔
ان کے مطابق یہی توازن پاکستان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد کردار ادا کر سکے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں امریکا کے لیے پاکستان کے علاوہ کسی ایسے ملک کا انتخاب مشکل ہے جس پر ایران کو بھی اتنا ہی اعتماد ہو۔
انہوں نے کہاکہ خطے میں دیگر ممالک بھی موجود ہیں، مگر ایران کا جو اعتماد پاکستان پر ہے وہ ایک نمایاں عنصر ہے۔ آصف درانی کے مطابق پاکستان نے اس معاملے میں مؤثر اور دانشمندانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انکلوسِو اپروچ اختیار کی۔ اس حکمت عملی کے تحت پاکستان نے نہ صرف براہِ راست فریقین سے رابطہ رکھا، بلکہ سعودی عرب، مصر اور ترکیہ جیسے اہم علاقائی ممالک کو بھی ساتھ لے کر چلا۔
آصف درانی کے مطابق وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت نے ایک ایسا سفارتی ماحول پیدا کیا، جس میں کسی بھی ملک یا خطے کو نظرانداز کیے جانے کا تاثر ختم ہوا اور اعتماد سازی میں مدد ملی۔
انہوں نے زور دیا کہ یہی جامع اور متوازن حکمت عملی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا ثبوت ہے، اور ایران کا پاکستان پر اعتماد اس کردار کی واضح مثال ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان قریباً 80 فیصد معاملات طے پا چکے ہیں، مسعود خالد
سابق سینیئر سفارتکار مسعود خالد کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریباً 80 فیصد معاملات طے پا چکے ہیں، جبکہ باقی 20 فیصد ایشوز پر بھی سنجیدگی سے کام جاری ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حقیقی کوششیں ہو رہی ہیں۔
مسعود خالد نے پاکستان کے کردار کو بھی مثبت انداز میں اجاگر کیا، ان کے مطابق پاکستان نے پسِ پردہ رہتے ہوئے ایک تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، اس عمل نے امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم مدد فراہم کی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں سفارتکاری، میئر لندن کی وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف
مسعود خالد کے مطابق پاکستان کا کردار اس سب میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان کی جانب سے اب بھی بھرپور کوشش جارہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو نہ صرف بحال رکھا جائے بلکہ مذاکرات کی کامیابی کو بھی ہر ممکن یقینی بنایا جائے۔














