بلوچستان نیشنل پارٹی کا لکپاس کے قریب دھرنا جاری

جمعہ 4 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کا مستونگ کے علاقے لکپاس کے قریب احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بی این پی مینگل کے دھرنے میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بی این پی سربراہ سردار اختر مینگل کے دھرنے کے قریب خودکش دھماکا

اس موقعے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی این پی رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سیاست میں مداخلت کرکے ملک کو ترقی کی جانب گامزن نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عام انتخابات جتنے والے جیل میں جبکہ ڈاکو ملک پر قابض ہیں۔

نیشنل پارٹی کے رہنما کبیر محمد شہی نے کہا کہ حکومت کے پاس مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کا 6 اپریل تک وقت ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ 76 سالوں سے بلوچستان کی تاریخ آج تک نہیں بدلی۔

مزید پڑھیے: بی این پی کے لانگ مارچ پر پولیس کی مبینہ شیلنگ، متعدد کارکنان کی گرفتاری کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا کہ اداروں نے آئین کو صرف کاغذ کا ٹکڑا سمجھ رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بی این پی کے لانگ کو کوئٹہ آنے کی اجازت دی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے