2 مئی 2011 ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور مارنے کے لیے امریکا نے آپریشن کیا۔ امریکی اپنا ایک جلتا ہیلی کاپٹر چھوڑ کر آپریشن کرکے جاچکے تھے۔ موقعے پر پہنچنے والے صحافیوں کے بقول انہوں نے کسی کو کہتے سنا کہ یہ ہمارا ہیلی کاپٹر نہیں ہے۔ یہ سادہ کپڑوں میں موجود پی ایم اے کمانڈر تھے۔ خیر، ایبٹ آباد آپریشن کی یہ خبر جلد ہی عالمی میڈیا کی زینت بنی اور کئی ہفتوں تک چھائی رہی۔
2 مئی 2011 کی یہ تاریخ آنے سے پہلے 11 ستمبر 2001 آیا تھا۔ جب امریکا میں 4 اڑتے جہاز بطور بم استعمال ہوئے۔ 3 جہازوں نے اپنے ٹارگٹ ہٹ کیے اور چوتھا ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں میں 3 ہزار کے قریب افراد مارے گئے تھے۔
11 ستمبر 1683 وہ تاریخ ہے جب عثمانی ترکوں نے ویانا پر حملہ کیا۔ 12 ستمبر کو انہوں نے شکست کھائی۔ ہربرٹ میئر سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے وائس چیئرمین رہے ہیں۔ دنیا میں کیا ہورہا ہے اس سے متعلق 2008 میں انہوں نے ڈیوس میں لیڈنگ ورلڈ سی ای اوز کو ایک بریفنگ دی۔
ہربرٹ میئر نے بہت دلچسپ باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’11 ستمبر 1683 وہ تاریخ ہے جب مسلمانوں نے شکست کھائی۔ اس کے بعد بطور قوم یہ ایک ٹراما میں چلے گئے۔ ان کے عقائد میں شدت پسندی آئی۔ اس شکست سے شدت پسندوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہم دوبارہ تب ہی کوئی طاقت بن سکیں گے جب ہم وہ مسلمان بن جائیں جو اسلام کی آمد کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ہربرٹ میئر یہاں اعتراض کرتا ہے کہ مسلمانوں کا پہلا حکومتی ماڈل بھی کوئی مثالی نہیں تھا نہ آج کے دور میں چل سکتا ہے۔
’اس پہلے ماڈل پر یقین رکھنے والے یہ شدت پسند جب زور پکڑتے ہیں تو ویسٹ پر حملہ کرتے ہیں۔ ہربرٹ میئر کے مطابق ہمیں مسلمانوں کو ماڈرن کرنے کا چیلنج درپیش ہے تاکہ یہ دنیا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور واپس پیچھے ماضی کو دیکھنے کے بجائے آگے حال میں آئیں اور دنیا کے ساتھ چلیں۔ بدقسمتی سے ستمبر 11 وہ تاریخ ہے جس کے بعد سے مسلمان ماڈرن دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوپائے۔
’ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ اعتدال پسند مسلمان شدت پسندوں کو شکست دیں اور مسلمانوں کو آج کی جدید دنیا سے ہم آہنگ کردیں۔ امریکا کو اپنے وسائل اعتدال پسندوں کی مدد کے لیے استعمال کرنے چاہئیں۔ 11 ستمبر کا سبق یہ ہے کہ چند لوگ ہزاروں لوگوں کو بہت کم وقت میں مار سکتے ہیں۔ یہ امریکا جیسی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ ہر حملہ نہیں روکا جاسکتا۔ دہشتگردی کے خلاف سرگرم ہوتے وقت سیاسی حماقتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔‘
سیاسی حماقتوں کا ذکر اتنے پیارے انداز میں ہونے پر ہم اپنی سیاسی حماقتیں یاد کرسکتے ہیں۔
ہربرٹ میئر کا یہ خطاب بہت دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا اسلامی دنیا میں شدت پسندوں اور اعتدال پسندوں کی لڑائی بڑھے گی۔ انقلاب کی باتیں ہوں گی، حکومت جب عاجز آئے گی تو مظاہرین پر گولی چلانے کا کہے گی۔ جب سیکیورٹی فورسز گولی چلانے سے انکار کریں گی تو انقلاب مکمل ہوجائے گا، یہ سب پڑھ کر اس کے بعد عرب اسپرنگ کی کہانی معنی خیز لگتی ہے۔ اسی خطاب میں انہوں نے بدلتی دنیا میں کاروبار کے امکانات، چین، آمریتوں، مسلمانوں اور شدت پسندی پر بڑے مختلف انداز میں انہوں نے بات کی ہے۔
ہم صرف اسی حصے تک محدود رہتے ہیں جو ہم سے متعلق ہے۔ پاکستان شدت پسندی، آمریت، اعتدال پسندی اور جمہوری نظام کی کشمکش کی ایک شاندار مثال ہے۔ 80 کی دہائی کے آغاز میں دنیا بھر سے بنیاد پرست روس کے خلاف افغان جہاد کے نام پر پاکستان آنا شروع ہوئے۔ عربوں کی آمد شروع ہوئی۔ پشاور ایک قسم کا لانچنگ پیڈ یا ریکروٹمنٹ سینٹر بنا۔ جہاں یورپی امریکی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے اور جہادیوں کی آمد بھی جاری تھی۔
پشاور کی مساجد میں عرب مؤذن دکھائی دینے لگے۔ شیخ عبداللہ عظام نے مسجد سنبھالی۔ عرب چیریٹی اسپتال قائم ہوئے۔ عیدِ قربان پر سعودیہ سے افغان مہاجر کیمپوں میں تقسیم کے لیے گوشت آنا شروع ہوا، ویسے کھجوریں بھی بہت آتی تھیں۔ شہر میں روایتی پردے کا انداز تبدیل ہوا۔ اسکولوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کی کلاس الگ ہونی شروع ہوئیں۔ مساجد میں ہم نے اکثر دیکھا کہ مقامی مؤذن کو اذان دینے سے ہٹا کر کسی عرب نے اذان دی۔ وہ مقامی لہجے سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔
روس کے جانے کے بعد جلال آباد پر قبضے کے لیے افغان مجاہد تنظیموں نے حملہ کیا۔ یونیورسٹی روڈ پر قائم عرب خیراتی اسپتالوں میں مسلسل سائرن بجاتی ایمبولینس آتی رہتی تھیں۔ اسپتالوں سے یاد آیا کہ ایمن الظواہری کویت اسپتال میں ڈاکٹر ہوا کرتے تھے۔
آپ نے یہ سب پڑھتے اب تک نوٹ کرلیا ہوگا کہ بھائی وہ سب کہنے سے گریز کررہا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں۔ آپ ٹھیک سمجھ رہے ہیں۔ ایک تو آج کل ملکی معاشی حالات بہت بُرے ہیں۔ پیٹرول ویسے ہی مہنگا ہے، اب تو سنا ہے کہ جس سے گپ شپ کرنی ہو حوالدار بشیر اسے لے کر بھی پیدل ہی جاتا ہے۔ اپنا اس گرمی میں واک کرنے سے صاف انکار ہے۔
پھر بھی آپ کو چلتے چلتے 2 باتیں بتانی ہیں۔ امریکا میں ستمبر 11 ہونے سے پہلے افغانستان میں 9 ستمبر بھی ہوا تھا۔ احمد شاہ مسعود ایک خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔ ستمبر 11 کرنے والوں کے خلاف جو سب سے مؤثر اتحادی ہوتا اس کا نشانہ پہلے لگا دیا گیا تھا۔
ستمبر 11 کے بعد اگلے مہینے نومبر 11 میں ایوب آفریدی کو منشیات کے مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔ خیبر ایجنسی اور ننگرہار میں ایوب آفریدی ایک طاقتور ترین فرد تھے۔ تب کی ڈنگر گپ یہ تھی کہ اسی علاقے میں اسامہ بن لادن اور ان کے عرب فائٹر تورا بورا میں موجود تھے۔
چھوڑیں بات کہیں سے کہیں نکل جائے گی۔ ہم وطنوں پر شدت پسندی، عسکریت پسندی، منشیات، ڈالر اور جہاد کے جو عذاب اترے، دہائیوں پر پھیلی اس کہانی میں سیاست کا کوئی ذکر ہی نہیں آیا۔ یہی ہماری بدقسمتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













