تمباکو کے استعمال سے متعلق ریسرچ آرگنائزیشن دی انیشیٹو کی ریسرچ سامنے آئی ہے جسے انڈس اسپتال کے توسط سے پیش کیا گیا۔
ریسرچ پر 6 ماہ کا عرصہ لگا اور اس کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا تھا کہ اسکول جانے والی عمر کے بچوں میں تمباکو کا استعمال کس حد تک ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں موبائل کی لت یا ڈیجیٹل نشہ، ماہرین نے جان چھڑانے کا طریقہ بتا دیا
اس ریسرچ میں 14232 بچوں سے بات کی گئی جن میں سے 9011 وہ بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں جبکہ 5221 بچے وہ ہیں جو محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اس سروے میں 55 فیصد لڑکوں جبکہ 36 فیصد لڑکیوں نے حصہ لیا۔
ڈاکٹر آمنہ خان کے مطابق 47 فیصد کم عمر لڑکے لڑکیاں اپنے ہی گھروں سے سگریٹ نوشی کی جانب راغب ہوتے ہیں جبکہ 63 فیصد گھر سے باہر سگریٹ پیتے لوگوں سے متاثر ہو کر اس لت میں پھنس جاتے ہیں۔
ڈاکٹر آمنہ بتاتی ہیں کہ 16 فیصد 13 سے 18 سال کی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے دوست سگریٹ جبکہ 15 فیصد بغیر دھویں کے تمباکو نوشی کررہے ہیں بظاہر یہ تعداد کم دکھ رہی ہے لیکن جب اسے آپ کروڑوں کی آبادی کے حساب سے دیکھں تو یہ بہت بڑی تعداد ہے جو انتہائی خطرناک اور تشویش ناک ہے۔
ڈاکٹر آمنہ کے مطابق 43 فیصد کم عمر لڑکے لڑکیوں کو گھر کے پاس ہی سگریٹ میسر ہے اور کم رقم میں آپ ایک سگریٹ باآسانی لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلا سگریٹ بیچنا قانوناً جرم ہے لیکن قانون کی رٹ قائم نہیں کی جارہی۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت ای سگریٹ اور نیکوٹین پاؤچز روایتی تمباکو نوشی کی جگہ تیزی سے لے رہا ہے اور حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اسے پیش ایسے کیے جا رہا ہے جیسے یہ بہت ہی خاص چیز ہو لیکن کسی کو اندازہ نہیں کہ یہ زہر ہے اور نوجوانوں کو تباہ کرنے کا کام کررہا ہے۔
ڈاکٹر آمنہ خان کے مطابق ہر چیز کی طرح روایتی نشہ آور اشیا کی شکل کو بھی نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے یہ مصنوعات روایتی مصنوعات کی طرح خطرناک نہیں ہیں اور نشانہ اسکول جانے والے بچوں کو اس لیے بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کی مصنوعات کے عادی ہو کر یہ ساری زندگی اسے استعمال کرسکیں۔
ڈاکٹر آمنہ خان کے مطابق نشہ آور اشیا چاہے وہ جس شکل میں بھی ہوں صحت کے لیے مفید نہیں یہ آپ کی صحت کسی نا کسی شکل میں متاثر کررہی ہوتی ہیں اور کینسر کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں مصطفیٰ قتل کیس: منشیات کی خریدوفروخت میں بین الاقوامی ڈرگ چین کے ملوث ہونے کا انکشاف
انہوں نے کہاکہ بہت سے والدین ان اشیا سے واقف بھی نہیں اور ان کی تشہیر کا طریقہ بھی ایسا ہے کہ ان اشیا کی جدید شکل دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے یہ انسان دوست ہیں کیوں کہ یہ سگریٹ، نسوار، گٹکا ماوا نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مصنوعات بھی اتنی ہی خطرناک ہیں جتنی روایتی نشہ آور اشیا ہیں۔













