گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ اگلے 5 برسوں میں بھی جاری رہنے کا امکان

جمعرات 29 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سال2024  معلوم تاریخ کا گرم ترین سال تھا جس دوران اور عالمی حدت میں تیزرفتار اضافہ مسلسل جاری ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ سنہ 2029 تک کوئی ایک برس گرمی کا یہ ریکارڈ بھی توڑ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے بھی موسمیاتی تبدیلی کے نرغے میں

ڈبلیو ایم او کی جانب سے ایک دہائی کے عرصہ میں کرہ ارض کی موسمیاتی صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ 5 سال کے دوران عالمی حدت میں اضافے کی شرح قبل از صنعتی دور (1850 تا 1900) کے مقابلے میں 1.2 تا 1.9 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہے گی۔

عالمی حدت میں اضافے کے نئے ریکارڈ

ڈبلیو ایم او کا اندازہ ہے کہ گزشتہ برس کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.34 اور 1.41 ڈگری سیلسیئس اضافہ دیکھا گیا۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ سنہ 2034 تک عالمی حدت میں اوسط اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.44 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہے گا۔

ایک فیصد امکان یہ بھی ہے کہ آئندہ نو سال میں کسی ایک برس عالمی حدت میں اضافہ 2 ڈگری سیلسیئس سے بڑھ جائے گا۔ 70 فیصد امکان ہے کہ حدت میں اضافے کی 5 سالہ اوسط 1.5 ڈگری کی حد کو عبور کر جائے گی۔

ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ پیرس معاہدے میں طے کردہ 1.5 ڈگری سیلسیئس کے ہدف کا تعلق 20 سال سے زیادہ مدت کے لیے ہے اور کسی برس عالمی حدت کے اس حد سے تجاوز کرنے کا مطلب اس ہدف کا ناقابل رسائی ہو جانا نہیں۔

مزید پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی کا تدارک: برطانیہ میں سمندر سے کاربن نکالنے کا آغاز

تاہم ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی سال ریکارڈ توڑ حدت تیزی سے بڑھتے موسمیاتی بحران کی انتباہی علامت ضرور کہی جا سکتی ہے۔

ڈبلیو ایم او نے آئندہ عرصہ میں افریقہ ، شمالی یورپ اور جنوبی ایشیا میں معمول سے زیادہ بارشوں اور ایمازون میں خشک سالی کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

قطب شمالی میں بڑھتی گرمی

ادارے کا کہنا ہے کہ قطب شمالی (آرکٹک) میں موسمیاتی صورتحال دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے۔

آئندہ 5 موسم سرما میں (نومبر سے مارچ تک) خطے کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی اوسط کے مقابلے میں 2.4 ڈگری سیلسیئس تک زیادہ گرم رہنے کا امکان ہے۔ یہ عالمی اوسط سے 3.5 گنا زیادہ اضافہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق بالخصوص بحیرہ بارنٹ، بیرنگ اور اوخوتسک میں سمندری برف میں کمی آنے کی توقع ہے جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہو گا اور دنیا بھر میں موسمیاتی صورتحال میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی اور زراعت کو درپیش چیلنجز

ڈبلیو ایم او نے آئندہ دہائیوں کے دوران عالمی حدت میں مزید خطرناک اضافہ روکنے کے لیے ہنگامی موسمیاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp