عید الاضحیٰ کی آمد کے پیشِ نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کی ہدایات جاری کردیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر سیکریٹری داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں عوامی مقامات پر سری پائے جلانے، جانوروں کے فضلے اور اوجھڑیوں کو مین ہولز، نالیوں اور نہروں میں پھینکنے پر دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کی منظوری دے دی
اسی طرح منظور شدہ مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے دریاؤں، نہروں، ڈیمز اور جھیلوں میں نہانے، تیراکی اور کشتی رانی پر بھی دفعہ 144 کا نفاذ کیا ہے، جبکہ اسلحے اور گولہ بارود کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی، پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے تحت پابندیوں کا اطلاق جمعرات (5جون)سے بدھ (11 جون) تک ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ: اسلام آباد میں ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ اور غیرقانونی اسلحے کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
سیکریٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت پابندیوں کا حکم دیا ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق پابندیوں کا فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور ماحول کی بہتری کے لیے کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ مذکورہ سرگرمیاں نہ صرف عوامی تحفظ اور صحتِ عامہ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ لوگوں میں اضطراب کا باعث بھی بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ذوالحج کا چاند نظر نہیں آیا، پاکستان میں عیدالاضحیٰ 7 جون کو ہوگی، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ عیدالاضحی پر کسی کالعدم تنظیم کو قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ادارے ہی قربانی کی کھالیں وصول کرسکیں گے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جاری کیے گئے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔














