چترال: سڑک کی تعمیر میں 16 سال کی تاخیر اور مبینہ کرپشن پر احتجاج کرنے والے مظاہرین گرفتار

اتوار 1 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اپر چترال میں بونی-بوزند روڈ کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیر اور مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے والے 8 مظاہرین کو پولیس نے کارِ سرکار میں مداخلت اور حکام پر مبینہ حملے کی کوشش کا الزام لگا کر گرفتار جبکہ دیگر کو مقدمے میں نامزد کردیا ہے۔

یہ پرامن احتجاج 23 مارچ کو تورکھو-تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) نامی مقامی تنظیم کی قیادت میں ہوا تھا جس کی قیادت ایک نوجوان سماجی کارکن عمیر خلیل اور ان کے ساتھی کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 16 سال، ایک ارب 16 کروڑ خرچ: 28 کلومیٹر سڑک نہ بننے پر عوام کا دھرنا

واضح رہے کہ اپر چترال کے ہیڈکوارٹر بونی سے وادی تورکھو کے لیے 28 کلومیٹر پکی سڑک کی منظوری اور کام آغاز 16 سال پہلے ہوا تھا تاہم ابتدائی لاگت 36 کروڑ روپے سے بڑھ کر ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کے باوجود منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔

مقامی عمائدین کے مطابق اب تک صرف 7 کلومیٹر سڑک پر کچھ کام ہوسکا ہے جبکہ اس منصوبے پر 1 ارب 22 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس دوران کنسٹرکشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ (سی اینڈ ڈبلیو) پر ٹھیکہ دار کو مبینہ طور پر غیرقانونی پیشگی ادائیگیوں کے الزامات بھی لگتے رہے۔

وادی تورکھو کو باقی علاقوں سے ملانے والی اس واحد سڑک پر کام میں غیرمعمولی تاخیر، کرپشن اور ٹھیکہ دار کو غیرقانونی پیشگی ادائیگیوں کے خلاف گزشتہ روز علاقے کے عوام نے بڑی تعداد مین احتجاج کرتے ہوئے بونی کا رُخ کیا اور بونی-مستوج سڑک بند کردی۔

احتجاج کے بعد پولیس نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی مدعیت میں 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا جس کے بعد نامزد ملزمان میں سے 8 افراد نے رضاکارانہ طور پر گرفتاری دے دی جنہیں بعدازاں، مقامی عدالت کے سامنے پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔

احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اپر چترال میں دفعہ 144 کے نفاذ کے ذریعے عوامی اجتماعات پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔

Chitral Torkhow Road Protest 2025
بون-بوزند روڈ کی تعمیر میں تاخیر اور مبینہ کرپشن کے خلاف 23 مئی کو بونی میں ہونے والے احتجاج کا منظر/سوشل میڈیا

ایف آئی آر میں مظاہرین پر سرکاری اداروں کو زور زبردستی بند کرنے، مواصلات کے نظام میں خلل ڈالنے، حکام کے ساتھ گالم گلوچ اور ان پر مبینہ حملے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تاہم ٹی ٹی آر ایف کے قائدین ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

چترال کے معروف سماجی کارکن اور مقدمے میں نامزد نوجوان پیر مختار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں سڑکوں کی حالت ابتر ہے اور حکومت شہریوں کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چترال: المناک ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف اس کارروائی کا مقصد چترال میں بنیادی شہری حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کی حوصلہ شکنی اور ان کو دبانا ہے۔

چترال کی تمام سیاسی جماعتوں اورسماجی حلقوں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے زیر حراست شہریوں کی رہائی، منصوبے میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور چترال میں سڑکوں کی حالتِ زار میں بہتری لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان