چاند سے ٹکرانے والا سیارچہ کیس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے؟

جمعہ 20 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

NASA نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً 200 فٹ (60 میٹر) چوڑا سیارچہ 2024 YR4 اب چاند سے ٹکرانے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔

 نئے ڈیٹا کے مطابق اس سیارچے کے 22 دسمبر 2032 کو چاند سے ٹکرانے کی احتمال 3.8 سے بڑھ کر 4.3 فیصد ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جاپانی کمپنی ‘آئی اسپیس’ کا دوسرا چاند مشن بھی ناکام، ‘ریزیلینس’ لینڈر چاند پر گر کر تباہ

اس سے متعلق سیارچہ پہلے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن مزید مشاہدات نے واضح کر دیا کہ اب زمینی خطرہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔

ناسا کے Center for Near-Earth Object Studies کے مطابق یہ امکان صرف چاند پر ٹکرانے کا ہے، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بن سکتا ہے، لیکن یہ زمین کے لیے بلاواسطہ خطرہ نہیں ہے۔

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ہونے والی تازہ ترین نگرانیوں نے اس امکان میں اضافہ کیا ہے، اور خلا میں موجود اس سیارچے کے مداری زاویوں کی بہتر سمجھ نے یہ جائزہ ممکن بنایا ۔ ناسا اگلی بار اس سیارچے کا مشاہدہ 2028 میں کرے گا۔

یہ پیشرفت نہ صرف خلا میں محفوظ علاقوں کی حفاظت کے نظام کی جانچ ہے، بلکہ چاند پر ہونے والی ٹکر سے بننے والا کرہ زمین بھی تحقیق کی وجہ بن سکتا ہے، خاص طور پر نئے گڑھوں کے مطالعے سے ہمیں بہت سی سائنسی معلومات مل سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان