اقوام متحدہ میں ایرانی اور اسرائیلی مندوبین کے مابین تند و تلخ جملوں کا تبادلہ

ہفتہ 21 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں ایران اور اسرائیل کے نمائندے شدید سفارتی جھڑپ میں ملوث ہوئے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جارحیت کے الزامات لگائے اور اپنے اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر واضح کرنے کی کوشش کی۔

ایران کا نیوکلیئر پروگرام خطرہ ہے‘، اسرائیل کا مؤقف

اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کو خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھے گا جب تک ایرانی خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔

’اسرائیل انسانیت کے خلاف جنگ کر رہا ہے‘، ایران کا جواب

ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے ’انسانیت کے خلاف جنگ‘ کے مترادف ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملے جارحانہ ہیں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ایران نے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے بچائی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی وارننگ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے دونوں ممالک کو خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطے اور دنیا کو تباہ کن نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ تباہی کے دہانے پرہے، کشیدگی کو کم کیا جائے: اینتونیو گوتریس

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریقین امن کو موقع دیں۔

’جوہری تنصیبات پر حملے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں‘، IAEA کا خدشہ

اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بشیر جوہری ری ایکٹر جیسے حساس مقامات پر حملے کسی بھی وقت تباہ کن جوہری حادثے کا سبب بن سکتے ہیں، جو کہ نہ صرف ایران بلکہ پڑوسی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

یورپ کی ثالثی ناکام، چین و روس کا تحمل پر زور

یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ جنیوا میں مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ایران نے واضح طور پر کہا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی وہ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

امریکا نے بھی فی الوقت اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب چین اور روس نے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلسل فوجی کارروائیاں

واضح رہے کہ اسرائیل نے ایرانی نیوکلیئر اور فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے جن کے جواب میں ایران نے اسرائیلی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

دونوں ممالک کی جانب سے الزامات، حملے اور ردعمل کی صورت میں خطہ مکمل طور پر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔

اقوام متحدہ میں کشیدگی

اقوام متحدہ میں ایران اور اسرائیل کی زبانی جنگ دراصل میدانِ جنگ میں جاری لڑائی کا سفارتی عکس ہے۔ جہاں اقوام متحدہ امن کی اپیلیں کر رہا ہے، وہیں دونوں ممالک اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو یہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم بھی انسان ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ بیٹنگ میں بہتری لے آئیں، شاہین شاہ آفریدی

شاہین آفریدی کا بیٹا بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ کرکٹر نے بتادیا

برطانیہ کی مسجد میں نمازیوں کی ورزش کے سیشنز، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت

امریکا کی بحر اطلس میں کارروائی، وینزویلا سے منسلک 2 روسی تیل بردار جہازوں پر قبضہ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟