پنجاب حکومت نے صوبے کے اسپتالوں میں دورانِ ڈیوٹی نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ فیصلہ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صحت عامہ کے نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سی ایم ہیلتھ ویجیلینس اسکواڈ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی میو اسپتال آمد، مریضوں کی شکایات پر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ برطرف
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت جاری کی کہ اسپتالوں میں عملے کے باہمی رابطے کے لیے موبائل فون کے بجائے پیجر سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ کام کی رفتار اور مریضوں کی نگہداشت میں خلل نہ پڑے۔
انہوں نے 2 روز کے اندر اندر صوبے کے تمام اسپتالوں میں ریڈ اور بلیو کوڈ ایمرجنسی سسٹم نافذ کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے ہدایت کی کہ ہر ٹیچنگ اور ضلعی اسپتال میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہارٹ کنسلٹنٹس اور سرجنز ہفتے میں کم از کم دو بار ضلعی اسپتالوں میں خدمات انجام دیں، کیونکہ مریضوں کو علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور کرنا سراسر ظلم ہے، اور اب ایسا نہیں ہونے دیا جائےگا۔
انہوں نے اسپتالوں میں ایکوپمنٹ آڈٹ، ڈیتھ آڈٹ، لیب آڈٹ، نرسنگ آڈٹ اور ریکارڈ آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت دی، تاکہ نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سرکاری اسپتالوں سے اسمگل شدہ ادویات و آلات پشاور سے برآمد
مزید برآں انہوں نے حکم دیا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی تقرری کے لیے سیکریٹری صحت بذاتِ خود انٹرویو لیں تاکہ اہل اور ذمہ دار افسران کا انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔