ماحولیاتی حل کی جانب پیش قدمی، برطانوی سفارتخانے کا میڈیا کے ساتھ اشتراک

منگل 8 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اس وقت شدید مون سون بارشوں اور سیلاب سے نبرد آزما ہے جبکہ موسمیاتی تغافل کی لاگت 2050 تک 1.2 کھرب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، اس تناظر میں، برطانوی ہائی کمیشن نے ملک گیر موسمیاتی صحافت کی تربیتی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ صحافیوں کو موسمیاتی شعور اور عملی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے بااختیار بنایا جا سکے۔

اس تربیت کا مقصد اس بات کو اجاگر کرنا ہے کہ صحافی موسمیاتی مسائل اور حل کو عوام کے سامنے لاکر مثبت تبدیلی کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ وہ ناظرین اور قارئین کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ان کی روزمرہ زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی معیشت کو چاٹ رہی ہیں‘

ہائی کمیشن کی نائب ڈائریکٹر برائے کمیونیکیشنز و پبلک ڈپلومیسی سنیہا لالا کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تغافل کی قیمت 2050 تک 1.2 ٹریلین ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان، غربت میں اضافہ اور روزگار کی تباہی شامل ہیں۔

’یہ منظرنامہ اگرچہ تاریک لگتا ہے، مگر موسمیاتی صحافت ہمیں متبادل راستہ دکھا سکتی ہے۔ یہ صحافت نہ صرف مسائل کی نشان دہی کرتی ہے بلکہ حل بھی پیش کرتی ہے اور عمل کی ترغیب دیتی ہے۔‘

مزید پڑھیں:موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 100 ارب روپے مختص کردیے گئے، مریم اورنگزیب

اب تک یہ تربیت ایکسپریس ٹریبیون، ایکسپریس نیوز، روزنامہ ایکسپریس، جیو نیوز، روزنامہ جنگ، دی نیوز، دی نیشن اور نوائے وقت کے صحافیوں کو دی گئی ہے، تاہم اب یہ پروگرام لاہور اور کراچی تک پھیلایا جائے گا۔

برطانوی ہائی کمیشن کو اس تربیتی پروگرام میں چیوننگ اسکالرز کا تعاون حاصل ہے، جنہوں نے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے موسمیاتی شعبے میں مہارت حاصل کی۔ ان میں ماحولیاتی صحافی اور جارج میسن یونیورسٹی، امریکا میں پی ایچ ڈی اسکالر سید محمد ابوبکر، ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان حماد نقی خان اور ڈائریکٹر آڈٹ برائے مقامی حکومت ثنا منیر شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایک بڑھتا ہوا عالمی بحران اور پاکستان کی آزمائش

ان کے علاوہ سما ڈیجیٹل کے سینیئر سب ایڈیٹر محمد طلال اور جنرل مینیجر محمد عاصم صدیقی بھی شامل ہیں، جو چیوننگ کلائمٹ مینٹورشپ پروگرام کے فارغ التحصیل ہیں، ڈان نیوز کے عادل شاہزیب  بھی پروگرام کا حصہ ہیں، جو اپنے پرائم ٹائم شو میں موسمیاتی کہانیوں کے انضمام پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

تربیت میں شریک صحافیوں کے لیے ایک تحریری مقابلہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ بہترین موسمیاتی اسٹوری لکھنے والے صحافی کو کاربن بریف کے ایڈیٹر و ڈائریکٹر لیو ہِکمن کی زیرِ سرپرستی مینٹورشپ دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘