پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما رؤف حسن کا کہنا ہے کہ پارٹی کی آئندہ تحریک گزشتہ تمام تحاریک سے مختلف ہوگی کیونکہ یہ تحریک کسی مخصوص مقام تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملک گیر سطح پر پھیلائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے، رؤف حسن
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ ماضی میں ہم تحریک کے لیے کسی ایک جگہ کا انتخاب کرتے تھے جیسے مینار پاکستان، سنگجانی یا ڈی چوک لیکن اس بار تحریک کا آغاز نچلی سطح سے ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحریک یونین کونسل کی سطح سے شروع ہوگی، پھر تحصیل، ضلع، صوبہ اور آخر میں قومی سطح تک جائے گی۔ ان کے مطابق تحریک کے خدوخال جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔
’مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں‘
رؤف حسن نے زور دیا کہ سیاست میں آگے بڑھنے کا راستہ صرف مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلسل یہ بات کرتا رہا ہوں کہ مذاکرات ہی واحد حل ہیں لیکن بدقسمتی سے جب ہم نے مذاکرات کا آغاز کیا تو وہ معطل ہوگئے کیونکہ یہ لوگ عمران خان سے ایک ملاقات تک نہ کرا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے تاہم تحریک ہی وہ ذریعہ ہے جو مذاکرات کو تقویت دیتی ہے۔ مزاحمت صرف مذاکرات کی میز تک لے جاتی ہے جبکہ اصل کامیابی بات چیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی نئی قیادت کے بارے میں سوچ بچار کی جارہی ہے، رؤف حسن
’عوام کے ساتھ جڑی تحریک، شخصیات پر انحصار نہیں‘ی ٹی آئی کی تحریک میں واضح قیادت نظر آئے گی اور ایک مربوط تنظیمی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتری جائے گی۔
‘تحریک کا دار و مدار عوام پر ہے، شخصیات پر نہیں’
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کے سیاسی میدان میں آنے سے تحریک کو تقویت ملے گی، رؤف حسن نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تحریک کسی فرد سے نہیں بلکہ عوام سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس تحریک کی طاقت عوامی حمایت ہے نہ کہ کسی خاص شخصیت کی موجودگی۔
‘ریاست آئین، قانون اور جمہوریت سے خالی ہو چکی ہے’
ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ اس وقت ملک فسطائیت، ظلم اور جبر کی لپیٹ میں ہے۔ ان کے بقول حکمرانوں سے کبھی امید نہیں تھی کہ وہ ریاست اور اداروں کو اس حد تک گرا دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت ناگزیر، مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، رؤف حسن
انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت نہ آئین بچا ہے، نہ قانون اور نہ ہی جمہوریت باقی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کی خودمختاری بھی ختم ہو چکی ہے۔ ان حالات میں صرف عوام ہی ہماری امید ہیں اور ہم اپنی تحریک کو کسی ادارے سے جوڑنے کے بجائے عوامی طاقت سے منسلک رکھیں گے۔
‘جو بیانیہ نہیں اٹھا سکتا وہ راستہ چھوڑ دے’
رؤف حسن نے بتایا کہ عمران خان کا پیغام بہت واضح ہے کہ جو ان کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا وہ تحریک انصاف سے الگ ہو جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس بیانیے کو سمجھتے ہیں اور اس کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔
ان کے مطابق اس بار پی ٹی آئی کی تحریک میں واضح قیادت نظر آئے گی اور ایک منظم حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتری جائے گی۔














