وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر گولیاں ماری گئیں، جو نہایت دلخراش سانحہ ہے، اور بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے سدباب کے لیے سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ جب پنجابیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو انسانی حقوق کے علمبردار کیوں خاموش رہتے ہیں، یہ دوہرا معیار قابلِ مذمت ہے۔ ہم سب کو بلوچستان میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کا ترجیحی ایجنڈا صحت ہے، ہیلتھ کارڈ کا غلط استعمال سرکاری اسپتالوں میں ہو رہا تھا، اس لیے اب اسے صرف نجی اسپتالوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔، ان کا کہنا تھا اگر انہیں حکومت تنخواہ دیتی ہے تو انہیں ہیلتھ کارڈ استعمال کرنے کے بجائے اپنا علاج خود کروانا چاہیے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جو کام اپنے دور میں نہیں کیے، آج ہماری حکومت کی کامیابیوں پر تنقید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اب پنجاب کی تقلید میں اپنا گھر اسکیم لا رہی ہے، جبکہ ہیلتھ کارڈ بھی ن لیگ کا منصوبہ تھا جسے بہتر انداز میں جاری رکھا گیا ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق صحت کارڈ کی بندش کا ایک پروپیگنڈا تھا ورنہ آج بھی سرکاری اسپتالوں میں ٹیسٹ اور دوائیاں مفت فراہم کی جا رہی ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ ہیلتھ کارڈ کی آڈٹ رپورٹس بھی جلد منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں:
بارش کے دوران پانی جمع ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طوفانی بارش میں پانی اکٹھا ہونا قدرتی امر ہے، اصل سوال یہ ہے کہ نکاسی کے لیے کام ہوا یا نہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر ڈی ایچ اے کی تھیں، جو حکومت پنجاب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ’ڈی ایچ اے کے رہائشی اپنے نمائندوں سے سوال کریں۔‘
انہوں نے لیڈی ولنگٹن اسپتال کی دوبارہ تعمیر کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک یونٹ کو شاہدرہ ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا جائے گا جبکہ باقی 2 یونٹس دیگر اسپتالوں میں شفٹ کیے جائیں گے۔ عمران خان کا نام لیے بغیر انہوں نے نشاندہی کی کہ مہاتما نے صرف والدہ کے نام پر اسپتال بنایا، نہ کسی اور اسپتال کی حالت بہتر کی نہ کوئی نیا اسپتال قائم کیا۔
مزید پڑھیں:
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں صرف احتجاج کرنا آتا ہے جو وہ کرتے رہیں گے، پنجاب نے پہلے بھی جواب نہیں دیا تھا، اب بھی نہیں دے گا، انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھارتی پراکسی کے خلاف بنیان المرصوص جیسے اقدامات ختم نہیں ہوئے، اور ایسے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔














