ججز سنیارٹی کیس: عدالتی فیصلے کے خلاف مزید 2 انٹرا کورٹ اپیلیں دائر

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ججز سنیارٹی کیس میں سپریم کورٹ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف مزید 2 انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

نئی اپیلیں کراچی بار ایسوسی ایشن اور سینیئر وکیل شعیب شاہین کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ اپیل کنندگان نے مؤقف اپنایا ہے کہ سپریم کورٹ نے ججز سنیارٹی سے متعلق آئین کی درست تشریح نہیں کی، اور آرٹیکل 200 میں مستقل تبادلے کے تصور کو از خود اخذ کیا گیا، جو آئینی اصولوں کے منافی ہے۔

اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین میں ججز کے مستقل تبادلے کا کوئی تصور موجود نہیں، اور ججز کی آسامیوں پر تعیناتی صرف جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عدالت کی یہ رائے کہ تبادلے سے بھی آسامی پر تعیناتی ہو سکتی ہے، آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں: ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس،  5 ججز نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع  کرا دیا

اپیل کنندگان نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی سنیارٹی طے کرنا صدر مملکت کا اختیار نہیں ہے، اور اس ضمن میں عدالتی فیصلہ عدلیہ کی خودمختاری اور تقرری کے آئینی طریقہ کار سے متصادم ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ججز سنیارٹی کیس میں عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا جا چکا ہے، اور قانونی ماہرین اس مقدمے کو پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم آئینی موڑ قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp