غزہ کے شمال مشرقی علاقے بیت حانون میں پیر کی رات ایک مہلک حملے میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے، یہ حملہ بارودی سرنگوں اور چھپے ہوئے حماس جنگجوؤں نے فائرنگ کے ذریعے کیا، یہ واقعہ اسرائیلی سرحد کے قریب پیش آیا، جہاں فوجیوں کو نسبتا محفوظ سمجھا جاتا تھا۔
سی این این کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ حماس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارودی مواد نصب کر کے گھات لگائی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 21 ماہ کی جنگ کے باوجود حماس اب گوریلا طرزِ جنگ اپنا چکی ہے اور چھوٹے عسکری جتھوں کی صورت میں کارروائیاں کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس نے 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کر دی
یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج کو بارہا ان علاقوں میں لوٹنا پڑا ہے جنہیں وہ کلیئر قرار دے چکی تھی، بدھ کے روز خان یونس میں بھی حماس نے ایک اسرائیلی فوجی گاڑی پر راکٹ حملہ کیا اور ایک فوجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی، جو مزاحمت کے دوران مارا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ پیچیدہ حملہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ حماس، جو تقریباً 21 ماہ کی جنگ کے بعد بری طرح کمزور ہو چکی ہے، اب اسرائیلی فوج کے خلاف بغاوت کی مہم کے طور پر گوریلا طرز کی جنگ اپنا چکی ہے اور اپنی کمزوری کے باوجود، حماس نے اسرائیلی افواج پر مہلک حملے جاری رکھے ہیں۔
جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز کو بارہا غزہ کے اُن علاقوں میں واپس آنا پڑا جہاں اسرائیل پہلے دعویٰ کر چکا تھا کہ وہ انہیں صاف کر چکا ہے، کیونکہ حماس وہاں دوبارہ نمودار ہو جاتی ہے، حالیہ حملوں کی لڑی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل کا حماس کا مکمل خاتمہ کرنے کا مقصد اب بھی بہت دُور کی بات ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا نیتن یاہو کے اعزاز میں عشائیہ، غزہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال
حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز، کے مطابق پیر کے روز حملہ اس علاقے میں کیا گیا جہاں قابض افواج یہ سمجھتی تھیں کہ ہر کونا چھاننے کے بعد وہ محفوظ ہو گیا ہے، حماس نے اسے اعصاب کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وہ ان فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرے گی جنہیں اُس نے 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران قیدی بنایا تھا۔
’اگر اسرائیل حالیہ دنوں میں کسی معجزے سے اپنے فوجیوں کو جہنم سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا ہو، تو وہ آئندہ ناکام بھی ہو سکتا ہے، اور ہمارے پاس مزید قیدی ہوں گے۔‘
بدھ کے روز، خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کی ایک انجینیئرنگ گاڑی کو نشانہ بنایا، جس پر راکٹ سے حملہ کیا گیا اور جیسے ہی ڈرائیور بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، جنگجو گاڑی پر جھپٹ پڑے، جسے حماس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حماس غزہ میں جنگ بندی کے لیے کس بات کی ضمانت مانگ رہی ہے؟
اسرائیلی فوج کے مطابق، عسکریت پسندوں نے فوجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی، مگر مزاحمت کے دوران اُسے قتل کردیا گیا، اسرائیلی فورسز نے اس اغوا کی کوشش کو ناکام بنا دیا، 2 دن بعد القسام بریگیڈز نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا کہ اگلے فوجی کی قسمت بہتر ہوگی، کیونکہ وہ ہمارا نیا قیدی ہوگا۔
غزہ کی خونریز اور تھکا دینے والی جنگ اسرائیل کی ایران میں کی جانے والی تیز اور درست کارروائی سے بالکل مختلف ہے، ایک ایسی مہم جو فضائی اور زمینی دونوں سطحوں پر بغیر کسی فوجی نقصان کے انجام دی گئی، اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے مطابق، 12 روزہ اسرائیل ایران تنازع کے خاتمے کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 19 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بیت حانون کا حملہ بھی شامل ہے۔
اسی دن جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی، ایک حماس جنگجو نے جنوبی غزہ میں ایک بکتر بند انجینیئرنگ گاڑی کے کھلے دروازے میں آتش گیر مواد پھینکا، جس کے نتیجے میں اندر موجود تمام 7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ غزہ میں کئی مہینوں میں اسرائیلی افواج کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں: حماس نے جنگ بندی تجویز پر مثبت ردعمل دے دیا: فلسطینی عہدیدار
سابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہیلیوی نے جنوری میں کہا تھا کہ اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے اب تک حماس کے 20,000 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیل نے حماس کی اعلیٰ قیادت کے بیشتر افراد کو بھی ہدف بنا کر قتل کر دیا ہے۔
تاہم، ایک سینئر اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق، حماس نے نئے جنگجو بھی بھرتی کیے ہیں اور اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کیا ہے، مارچ میں اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ حماس نے سینکڑوں نئے جنگجو بھرتی کیے ہیں۔
اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے سابق آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ریٹائرڈ میجر جنرل اسرائیل زیوکے مطابق جو کچھ باقی بچا ہے، وہ چھوٹے چھوٹے عسکری سیلز پر مشتمل ایک منتشر گروہ ہے، جو ’مارو اور بھاگو‘ کی طرز پر حملے کرتا ہے اور غزہ کی زیرِ زمین سرنگوں کے بچے کھچے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے نقل و حرکت کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی پر آمادہ، حماس معاہدہ قبول کرے: ٹرمپ
زیو نے کہا کہ حماس نے وقت لے کر یہ مطالعہ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کیسے کام کرتی ہے، اور اب وہ اس علم کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ’ان کی جنگ ہماری کمزوریوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہ زمین کے دفاع کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ اہداف کو تلاش کرتے ہیں۔‘
زیو نے کہا کہ اسرائیلی فوج میں افرادی قوت کی قلت نے حماس کو اپنی کمزور حالت میں بھی اسرائیل کی کمزوریوں کے استحصال کا موقع فراہم کیا ہے، حماس ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے، یہ اب ایک گوریلا تنظیم بن چکی ہے، جو چھوٹے سیلز کی صورت میں کام کرتی ہے۔
’ان کے پاس بارودی مواد کی بہتات ہے، جس میں زیادہ تر وہ ہے جو اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے غزہ پر گرایا، یہ اب ایک ‘بارودی سرنگوں کی جنگ’ ہے۔ حماس گھات لگا کر حملے کرتی ہے اور اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کر کے حملوں میں پہل کرتی ہے۔‘