’تاریخ مٹائی جا سکتی ہے، یادیں نہیں‘ عمرعبداللہ کی مزار شہدا پر مزاحمتی حاضری

منگل 15 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کو 13 جولائی 1931 کے شہدا کی یاد میں دعائے مغفرت کے لیے سری نگر میں واقع مزارِ شہدا میں داخلے سے روک دیا گیا، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے رکاوٹوں کے باعث عمر عبداللہ کو دیوار پھلانگ کر قبرستان میں داخل ہونا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: کشمیر کے یوم شہدا پر وزیر اعلیٰ بھی مقید

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عمر عبداللہ شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے روایتی طور پر مزار پہنچے، مگر بھارتی فورسز نے مرکزی دروازے پر تعینات ہو کر ان کے داخلے کو روک دیا، عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سوگ اور شہداء کی یاد کو ریاست مخالف سرگرمی قرار دے دیا ہے۔

’جب ایک منتخب رہنما بھی قبر پر دعا کرنے کی اجازت نہ پائے، تو عام کشمیریوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیر میں جمہوریت ایک دھوکا ہے اور حقیقی طاقت بیلٹ نہیں بلکہ بندوق کے سائے میں چھپی ہے۔‘

مزید پڑھیں:مودی سے ملاقات کرنے والے وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے خود کو لعنت کا حقدار کیوں قرار دیا

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ بھارت شہدا کے دن کو سرکاری کیلنڈرز سے تو مٹا سکتا ہے، مگر کشمیریوں کے دلوں سے اس کی یاد کو کبھی نہیں نکال سکتا، انہوں نے حکومت ہند پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوف کی سیاست ہے، جہاں قبریں بھی ریاست کو خطرہ محسوس ہوتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف عوام کی آواز بلکہ ان کے جذبات، یادداشتوں اور تاریخ کو بھی دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے، ہر سال 13 جولائی کو کشمیری عوام 1931 کے ان شہدا کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

رواں برس اس دن پر پابندیاں، نظر بندیاں اور سیاسی رہنماؤں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بھارت کے لیے آزادی کی تاریخ ایک ایسا سچ ہے جسے وہ قبر میں بھی دفن دیکھنا چاہتا ہے، مگر کشمیری عوام اس سچ کو زندہ رکھنے کا عزم کر چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان