پاکستان کا زرعی رقبہ تقریباً 36 ملین ہیکٹر ہے، مگر صرف 24.1 ملین ہیکٹر زیرِ کاشت آتا ہے۔ اس میں سے 19 ملین ہیکٹر زمین آبپاشی کے نظام سے سیراب ہوتی ہے، جبکہ 5.1 ملین ہیکٹر بارانی زمین ہےجو بارش کے رحم و کرم پر ہے۔
جس طرح پاکستان کی توانائی پیداوار کا ’انرجی مکس‘ بے ہنگم ہے، کچھ ایسا ہی حال ہمارا ’ایگریکلچر مکس‘ یعنی فصلوں کا امتزاج بھی ہے۔ یہ عدم توازن ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت، برآمدات اور کسان کے روزگار کو متاثر کرتا ہے۔
ملکی زرعی پالیسی کو اس پہلو سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کون سی فصل خوراک کے لیے ضروری ہےْ، کون سی فصل صنعتی خام مال فراہم کرتی ہے اور کون سی دونوں کام سرانجام دیتی ہے۔
مثلاً گندم، چاول اور دالیں تحفظ خوراک کی بنیاد ہیں۔ کپاس اور تمباکو مکمل طور پر صنعتی خام مال فراہم کرتی ہیں، جبکہ گنا ایک درمیانی فصل ہے جس سے چینی (خوراک) بھی بنتی ہے اور مولاسز، بیگاس اور ایتھنول سے فیڈ، کھاد، بائیو گیس اور بجلی بھی حاصل کی جاتی ہے۔
سرسوں، کنولا اور سورج مکھی سے خورنی تیل تیار کیا جاتا ہے، جبکہ مکئی کا بڑا حصہ خوراک اور جزوی طور پر فیڈ میں استعمال ہوتا ہے۔ گندم چونکہ قومی غذا ہے اس لیے تحفظ خوراک کے لیے اس کی پیداوار ناگزیر ہے۔
سالانہ تقریباً 30 ملین ٹن گندم کی ضرورت ہے، گندم کی پیداوار میں رقبہ بڑھانے کی ضرورت نہیں بلکہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بہتر بیج، کھاد، زرعی ادویات، مشینری، اور اسٹوریج نظام کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری جو ہماری برآمدات کا 60 فیصد سے زائد ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے اس کا خام مال (کپاس) پیداواری قلت کا شکار ہے پاکستان کو سالانہ تقریباً 14 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پیداوار صرف 8 ملین گانٹھوں کے آس پاس رہتی ہے۔ ناقص بیج، سنڈیوں کے حملے، کمزور تحقیق اور پالیسی کی عدم توجہی اس صورت حال کا باعث رہی ہے۔
گنے کی پیداوار ہماری ضرورت 6 ملین ٹن سے زائد ہے 6 ملین ٹن چینی کے لیے 60 ملین ٹن گنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پیداوار اس سے بھی زیادہ ہے جس سے کسان کو نرخ کم ملتے ہیں وہ معاشی استحصال کا شکار ہوتا ہے، جب کہ شوگر ملز مالکان غیر ضروری اضافی منافع کماتے ہیں۔
چاول ایک برآمدی فصل ہے لیکن اس کی کاشت میں پانی کا بے پناہ استعمال اس وقت خطرے کی گھنٹی ہے، روایتی طریقے چھوڑ کر ڈائریکٹ سیڈنگ جیسے جدید طریقے اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ پانی بچایا جا سکے۔
مکئی کی کاشت میں طلب بڑھی ہے، خاص طور پر پولٹری فیڈ کے لیے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ہم اس وقت تقریباً اپنی پوری ضرورت خود پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، حالانکہ زیتون، کنولا اور سورج مکھی جیسی فصلوں سے ہم یہ ضرورت ملکی سطح پر پوری کر سکتے ہیں، ان کی پیداوار بڑھانا قومی ضرورت ہے۔
پھل اور سبزیاں مثلاً آم، کینو، سیب، ٹماٹر، پیاز اور مرچ نہ صرف کم پانی استعمال کرتی ہیں، بلکہ عالمی منڈیوں میں مقبول بھی ہیں لیکن پروسیسنگ، اسٹوریج اور کولڈ چین کی کمی ان کی برآمدات کو محدود رکھتی ہے۔
پاکستان میں دالوں کی سالانہ ضرورت تقریباً 1.3 ملین ٹن ہے، لیکن پیداوار محض 3–4 لاکھ ٹن ہے۔ نتیجتاً ہمیں سالانہ 8–10 لاکھ ٹن دالیں درآمد کرنا پڑتی ہیں۔
پاکستان کی لائیوسٹاک معیشت (گوشت، دودھ، دہی وغیرہ) زرعی جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زائد حصہ بناتی ہے۔ اس شعبے کو مستحکم رکھنے کے لیے چارے اور سبز کھاد والی فصلوں کا فروغ ضروری ہے جو نہ صرف جانوروں کی صحت بہتر بناتی ہیں، بلکہ زمین کی زرخیزی بھی بحال رکھتی ہیں۔
در حقیقت پاکستان کا زرعی رقبہ زیادہ تر چند فصلوں خاص طور پر گندم، چاول اور گنے پر مشتمل ہے، جبکہ کپاس، تیل دار اجناس اور دالوں کو خاطر خواہ زمین دستیاب نہیں۔ مثلاً گندم 36–37% زرعی رقبہ، چاول: 13%،گنا: 5–7%، کپاس: 7–9%، مکئی: 6%، دالیں، تیل دار اجناس، پھل و سبزیاں اور چارہ مجموعی طور پر 20–25% سے کم رقبے پر کاشت کی جاتی ہیں۔
اگر قومی غذائی و صنعتی ضروریات اور ماحولیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کا متوازن امتزاج کیا جائے تو درج ذیل تناسب موزوں ہو سکتا ہے۔
گندم 28% زرعی رقبہ، کپاس 17%، گنا 7%، چاول 12%، مکئی و دالیں 9%، تیل دار اجناس 8%، پھل اور سبزیاں 13%، چارہ و سبز کھاد 6% زرعی رقبہ۔
اگر حکومت زرعی مکس کو قومی غذائی اور صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کر لے اور فصلوں کی منصوبہ بندی موسمی حالات، پانی کی دستیابی اور تجارتی ترجیحات کے مطابق کرے تو ہم نہ صرف خوراک بلکہ مالیاتی خود کفالت کی جانب بھی تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














