سینیٹ الیکشن کا معمہ: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی نے پانچویں نشست کیوں گنوائی؟

اتوار 20 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں حیرت اور چہ میگوئیوں کو جنم دیا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب پی ٹی آئی کے پاس 92 اراکین اسمبلی موجود ہیں اور ایک جنرل نشست کے لیے صرف 19 ووٹ درکار ہوتے ہیں، تو پھر پارٹی نے پانچویں جنرل نشست کے لیے امیدوار کیوں نہیں کھڑا کیا؟

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی تمام نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب

انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے اعتبار سے 4 جنرل نشستوں کے لیے 76 ووٹ کافی تھے، جبکہ پی ٹی آئی کے پاس 18 اضافی ووٹ باقی بچتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اضافی ووٹ استعمال کیے جاتے تو پانچویں نشست بھی حاصل کی جا سکتی تھی، کیونکہ دوسرے اور تیسرے ترجیحی ووٹ کی منتقلی سے پی ٹی آئی کا امیدوار جیت سکتا تھا۔

سیاسی مبصرین دو ممکنہ وجوہات پر غور کر رہے ہیں:

  1. اپوزیشن کو فائدہ پہنچانا: ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما طلحہ محمود کو جنرل نشست جیتنے کے لیے ووٹ درکار تھے۔ پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر اپنا پانچواں امیدوار نہ کھڑا کر کے انہیں راستہ دیا۔
  2. پارٹی کے اندرونی اختلافات: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو خدشہ تھا کہ اگر مقابلہ ہوا تو پارٹی کے کچھ اراکین بغاوت کر سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے بلامقابلہ انتخابات پر زور دیا اور اپوزیشن کو ایک نشست دینے پر آمادگی ظاہر کی۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسمبلی میں 35 آزاد اراکین موجود ہیں، جن پر وفاداری تبدیل کرنے کی کوئی پابندی نہیں۔ اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر 53 ووٹ ہیں، جو انہیں 2 نشستیں دلوا سکتے ہیں، لیکن تیسری نشست کے لیے 4 ووٹ کم تھے۔ اس لیے طلحہ محمود کا جیتنا ممکن نہ تھا جب تک کوئی خفیہ حمایت حاصل نہ ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی سینیٹ الیکشن: پی ٹی آئی کا ناراض امیدواروں کے دستبردار نہ ہونے پر حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ

مگر بلامقابلہ انتخاب کے معاہدے کے بعد طلحہ محمود کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے، کیونکہ انہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ اگر پی ٹی آئی پانچواں امیدوار سامنے لاتی، تو ان کی جیت مشکل ہو جاتی۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مطابق گروپ بنائے جائیں گے اور ہر رکن پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح کے مطابق ووٹ دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ نہیں مانے، اب پارٹی ان کے خلاف کارروائی پر غور کرے گی۔

ن

ادھر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاہدے کے تحت اپوزیشن 5 نشستیں حاصل کرے گی، جن میں 3 جنرل، ایک خواتین اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معاہدے کے مطابق اضافی امیدوار واپس لے لیے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں بےچینی پیدا ہو گئی ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان