بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک خاتون کے بہیمانہ قتل کے خلاف پنجاب اسمبلی میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد ایوان میں جمع کروائی ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان غیرت کے نام پر ایک نہتی خاتون کے قتل پر شدید مذمت کرتا ہے اور ایسے واقعات کو ملک کی عالمی ساکھ کے لیے خطرناک قرار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی پر قتل: بلوچستان میں 11 ملزمان گرفتار، وزیر اعلیٰ کا انصاف کی فراہمی کا عزم
قرارداد میں بلوچستان میں ہونے والے واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جرگے کی آڑ میں قتل کیے گئے افراد کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔
یہ ایوان متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے قتل کا مقدمہ درج، مشتبہ شخص گرفتار
مزید برآں، قرارداد میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مؤثر اور سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی شخص کو ایسی بربریت کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا ردعمل
حنا پرویز بٹ نے قرارداد جمع کروانے کے بعد کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانیت سوز ہیں بلکہ ریاست کی کمزوری کی علامت ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اب روایتی خاموشی توڑنی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں مرد اور خاتون کے قتل کا فیصلہ سنانے والے بلوچ سردار شیزباز خان ساتکزئی کون ہیں؟
سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔












