مصنوعی ذہانت سے لیس لال بیگ میدانِ جنگ میں اترنے کے لیے تیار

بدھ 23 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی سوارم بایوٹیکٹکس کمپنی ایک منفرد قسم کی روبوٹک ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جو زندہ حشرات الارض، خاص طور پر لال بیگوں کو مخصوص بیک پیک سے لیس کر کے انہیں زندہ روبوٹ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

یہ بیک پیک کنٹرول سینسرز، اور محفوظ مواصلاتی نظام سے آراستہ ہوتا ہے جو خطرناک، تنگ یا ناقابلِ رسائی علاقوں میں مشن مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان زندہ بایو-روبوٹکس سسٹمز کو دفاعی، سیکیورٹی اور ہنگامی حالات کے ردعمل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنا انسانی مداخلت روبوٹک سرجری سے پِتّے کا کامیاب آپریشن اہم سنگ میل قرار

کمپنی کے سی ای او اسٹیفن وِلہلم کا کہنا ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں خودمختاری اور رسائی جغرافیائی برتری کا تعین کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ روایتی ڈرونز یا زمینی روبوٹس ایسے علاقوں میں ناکام ہو جاتے ہیں جہاں انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہو یا حالات سیاسی طور پر پیچیدہ ہوں۔ ‘سوارم’ ایسی جگہوں کے لیے مصنوعی ذہنیت سے لیس بایولوجیکل اور بڑے پیمانے پر تعیناتی کے قابل نظام فراہم کر رہی ہے۔

کمپنی نے منصوبے میں یورپ اور امریکا میں دفاعی اداروں کے ساتھ پائلٹ پروگرامز، سسٹمز کی بڑے پیمانے پر تیاری، اور ماہر عملے کی بھرتی شروع کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گورنر راج کی اطلاع پر عدم دلچسپی کا اظہار: کیا عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت سے امیدیں دم توڑ گئیں؟

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا