’کارز‘ اور افغانستان میں امریکی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کی گیٹ وے جیسی حیثیت

بدھ 6 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد یوریشیا میں اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے، تو پاکستان ایک ایسے زمینی پُل کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے جو وسطی ایشیا اور افغانستان جیسے خطوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو کہ براہِ راست امریکی اثر سے باہر رہے ہیں۔ پاکستان ایک محفوظ اور توسیع پذیر زمینی راہداری مہیا کرتا ہے، جو ایران جیسے بلند خطرے والے راستوں یا شمالی غیر مستحکم گزرگاہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان امریکا تعلقات کو پاک چین دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اسحاق ڈار

پاکستان اور عالمی بینک کے باہمی تعاون سے 482.75 ملین ڈالر لاگت کا خیبر پاس اکنامک کوریڈور ایک نمایاں منصوبہ ہے جو پشاور سے طورخم اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کو بہتر بناتا ہے۔

یہ منصوبہ پاکستان کی بندرگاہوں سے مربوط ہے اور کم وقت میں ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ راہداری ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرے گی اور ازبکستان، تاجکستان اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولے گی۔

گوادر اور پورٹ قاسم امریکی برآمدات اور انسانی امداد کے لیے متبادل رسائی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان جغرافیائی طور پر حساس راستوں پر انحصار کم ہوتا ہے۔ تجارت سے ہٹ کر اس راہداری میں استحکام انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔

امریکی لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ان راستوں پر کسٹمز، گوداموں اور ڈیجیٹل بارڈر سسٹمز میں سرمایہ کاری کے لیے وسیع گنجائش رکھتی ہیں، تاکہ بلوچستان اور افغانستان سے معدنی وسائل کی آمدورفت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ علاقائی توانائی منصوبوں جیسے CASA-1000 اور تاپی کو دوبارہ فعال کرنا، جن میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، امریکا کی وسطی ایشیا میں توانائی کی موجودگی کو بحال کر سکتا ہے۔

پاکستان صرف ایک سیکیورٹی پارٹنر نہیں، بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اسٹریٹجک ہے، جس میں بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ پاکستان علاقائی انضمام اور رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان امریکا کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پاکستان کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر امریکا اپنے معاشی مفادات کو کارز اور افغانستان میں بہتر طور پر فروغ دے سکتا ہے۔ یہ ربط صرف اقتصادی فوائد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ٹرانزٹ معیشتوں کو استحکام دیتا ہے اور امریکا کی طویل مدتی انخلا پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی