لیگ اسپنر اسامہ میر نے کہا ہے کہ اگر انہیں کسی دوسرے ملک سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی پیشکش موصول ہوئی تو وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ قومی ٹیم میں نظر انداز کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کیریئر غیر یقینی میں نہیں رکھ سکتے۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ اسپنر نے حال ہی میں انگلینڈ کے ووسٹرشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب سے 3 سالہ ٹی20 معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت وہ 2026 میں غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر جبکہ 2027 سے مقامی پلیئر کے طور پر کھیلنے کے اہل ہو جائیں گے۔
Usama Mir “PCB didn’t respond to my calls regarding a fitness test. Then when I landed in Australia for the Big Bash, they asked me to report for the fitness test” #Cricket pic.twitter.com/7heXgk41bu
— Saj Sadiq (@SajSadiqCricket) August 8, 2025
مزید پڑھیں: پی سی بی کا اسامہ میر کو غیر ملکی لیگ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار
ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے اسامہ میر نے کہا کہ کرکٹر کا کام کرکٹ کھیلنا ہے۔ اگر کسی بھی ملک سے اعلیٰ سطح پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو انکار نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیم میں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر افسوس ہے۔ صرف ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر غیر یقینی کا شکار نہیں رہ سکتا۔ اگر بیرونِ ملک معیاری کرکٹ کے مواقع ملیں گے تو بھرپور فائدہ اٹھاؤں گا۔
واضح رہے کہ اسامہ میر پاکستان کی جانب سے اب تک 12 ون ڈے اور 5 ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں نمائندگی کرچکے ہیں۔














